Categories
Breaking news

مردہ قرار دی گئی خاتون اچانک کیسے زندہ ہوگئی؟ اسپتال کا عملہ خوف زدہ، جانیے تفصیلات

Advertisement
Advertisement

خاتون زندہ ہو گئیروس کے ایک مردہ خانے میں رات گزارنے والی مردہ خاتون زندہ ہو کر لوٹ آئیں، اسپتال کی ملازمہ بوڑھی خاتون کو فرش پر زندہ پڑے دیکھ کر خوف زدہ ہو گئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کے شہر کورسک کے علاقے گورششنکی کے ایک اسپتال میں مردہ خاتون زندہ ہو گئیں، ڈاکٹروں نے 81 سالہ خاتون کو مردہ قرار دے دیا تھا لیکن وہ مردہ خانے میں ایک رات گزار کر لوٹ آئی۔

اکیاسی سالہ زینائڈا کونونوف کو ڈاکٹروں نے آنتوں میں رکاوٹ کے آپریشن کے بعد مردہ قرار دے دیا تھا، جس پر انھیں رات ایک بجے مردہ خانے منتقل کیا گیا، تاہم 8 بجے صبح اسپتال کی ایک خاتون ورکر نے انھیں فرش پر زندہ پڑے دیکھا تو سخت خوف زدہ ہو گئی۔

معلوم ہوا کہ خاتون ہوش میں آنے کے بعد مردہ خانے کی میز پر سے اٹھنے اور باہر نکلنے کی کوشش میں فرش پر گر گئی تھیں، بعد ازاں مردہ خانے کے ملازمین نے خاتون کو کمبل میں لپیٹ کر انتہائی نگہداشت یونٹ منتقل کر دیا۔

مردہ خانے کے ملازم کا کہنا تھا کہ پہلے اس نے شور سنا، جب وہ اندر آیا تو اسپتال کی ملازمہ گھبرا کر کہہ رہی تھی کہ دادی ماں زندہ ہو گئی ہیں۔ میں سمجھا کہ شاید اس کا دماغ ٹھیک نہیں ہے، لیکن پھر فرش پر خاتون کو مدد کے لیے پکارتے دیکھ کر حیران رہ گیا۔

اسپتال کی جانب سے خاتون کی بھانجی کو بلایا گیا تو ایک سینئر ڈاکٹر نے ان کو بتایا کہ ایک غیر معمولی صورت حال ہو گئی ہے، زینائڈا کونونوف زندہ ہیں، یہ سن کر وہ بے حد خوش ہو گئیں۔

ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ مس کونونوف کو 15 منٹ تک بے حس و حرکت رہنے کے بعد مردہ قرار دیا گیا تھا۔ بھانجی کولیکووا کا کہنا تھا کہ ان کی آنٹی نے شروع میں نہ انھیں پہنچانا تھا نہ ہی انھیں آپریشن کا یاد تھا، ہاں اپنے گھٹنے کے پرانے درد کے بارے میں بات کی۔

بعد ازاں ایک ڈاکٹر نے اقرار کیا کہ واقعے میں ان کی غفلت کا بھی ہاتھ تھا، مس کونونوف کو مرنے کے ایک گھنٹہ 20 منٹ کے بعد ہی مردہ خانے بھیج دیا گیا تھا حالاں کہ ضابطے کے مطابق 2 گھنٹے کے بعد بھیجنا چاہیے تھا۔

خاتون کو مزید علاج کے لیے بڑے اسپتال بھیج دیا گیا، جب کہ گورششنکی ڈسٹرکٹ اسپتال کے چیف ڈاکٹر کو معطل کر دیا گیا، خاتون کے اہل خانہ نے اسپتال پر مقدمہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *