Categories
Breaking news

مرحوم یوسف چودھری اورلفظوں میں بکھری چند یادیں ۔۔۔قدیر حسین چوہدری

Advertisement
Advertisement

فیس بک پر پوسٹ کی گئی میری کچھ چُنیدہ تحریریں جن میں ہردلعزیز دوست مرحوم یوسف چودھری کا ذکرِ خیر،میں کوشش کروں گا کہ یہاں ترتیب اور پوسٹ کا پس منظر بھی بیان کروں تاکہ آپ احباب کو یوسف کی زندہ دلی ٹھیک ٹھیک سمجھ آئے، ویسے تو یوسف اپنے ہر دوست اور جاننے والے پر اپنی پہچان کی چھاپ چھوڑ گیا ہے جو کسی بھی کیلئے آسانی سے فراموش کرنا اوربھولنا ممکن نہ ہوگا۔

( پوسٹ : یکم اگست 2015ء ۔ عنوان : بھیگے کُکڑ )
بادالونا سے واپسی پر بارسلونا میں اچھی بارش سے موسم انتہائی خوشگوار ہوگیا، میں اور یوسف چودھری تیز بارش میںجناب طارق مہدی، چودھری افضال گوندل اور حاجی افضل بٹ صاحب کی طرف سے ڈراپ کئے جانے کے بعد، بھیگ کر مزید بارش سے بچنے کیلئے ایک بس اسٹاپ میں ایسے ہاتھ بغلوں میں دئیے کھڑے تھے جیسے بھیگے کُکڑ اپنے پَر سُکیڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔
(پس منظر): اُن دنوں میں اور یوسف چودھری بارسلونا میں ایک ہی محلے میں رہتے تھے، اور بارسلونا سے متصل شہر بادالونا میں کسی دعوت سے رات گئے فراغت کے بعد گاڑی پر جناب طارق مہدی اور دیگر دوست ہمارے محلے کے قریب ہمیں ڈراپ کرگئے ، بارش انتہائی تیز تھی گاڑی سے اُتر کر بارش سے بچنے کیلئے جائے پناہ جو کہ ایک بس اسٹاپ تھا تک بھاگ کر جانے تک ہم خاصے بھیگ چُکے تھے، اور اِس حالت میں بھی اُن کی خوشگوار جُملے بازی عروج پہ اور ہم دونوں ہی ہنسے جارہے تھے۔۔

( پوسٹ: 4 اکتوبر2015ء )
کی سوچ رہیاں، ایہہ ہی سوچ رہیاں۔۔۔
(پس منظر): کسی بھی عنوان کے بغیر میں نے یہ پوسٹ کی کہ ( کیا سوچ رہاہوں، یہی سوچ رہاہوں)،
کمنٹس میں اُستاد جی جناب نوید احمد اُندلسی نے یوسف چودھری کو مینشن کیا، جواب میں میں نے لکھا (یا اللہ اب یوسف چودھری سے بچانا)، نیچے کمنٹس میں یوسف چودھری نے جو جواب دیا وہ بھی کمال کا تھا:
کی سوچ رہیاں، ایہہ ہی سوچ رہیاں،،، کدرے اپنا گلا ہی تے نہیں دبوچ رہیاں،،،
ساریاں مصیبتاں تے مشکلاں دے نال،،، قسمت اپنی تے نہیں میں نوچ رہیاں،،،
چھڈ دلا پوریاں اُنہاں دیاں وی نہیں ہوئیاں،،، جنہاں دیاں زندگی وچ ساریاں اپروچ رہیاں،،،

( یوسف چودھری مرحوم کی کچھ یادیں )
( پوسٹ: 3 دسمبر 2015ء )
(پس منظر): میں نے رات کے کسی پہر کوئی بھی لفظ لکھے بغیر درچ بالا نقطے پوسٹ کردئیے، جواب میں کمنٹس کے اندر یوسف چودھری نے بھی ایسے ہی کچھ سائن اور نقطے کمنٹ کردئیے، اُستاد جی جناب نوید احمد اُندلسی نے یوسف کو مخاطب کرتے ہوئے کمنٹ کیا (یوسف صاحب اتنا جوابی غصہ؟؟؟)، استاد جی کو جوابی کمنٹ کرتے ہوئے یوسف چودھری کہتے ہیں (استاد جی آپ بھی زبانِ قدیریہ میں ہی بات کریں) ۔۔۔

( پوسٹ: 7 نومبر 2016ء )
ہم ہیں کہ یہاں اُداس ہیں یوسف کی یاد میں،،،
جناب ہیں کہ عیش کئے جاتے ہیں گجرات میں،،،
(پس منظر): غالباً سپین کے پیپر ملنے پر وہ خاصے طویل عرصے کے بعد پہلی بار پاکستان گئے تھے اور ہم بارسلونا میں اُن کی کمی شدت سے محسوس کررہے تھے، میری پوسٹ کے جواب میں کمنٹ کرتے ہوئے اُنہوں نے شعری انداز ہی اپنایا،
واقعی عیش تو ہے گجرات میں،،،
دھوڑ مٹی کھائو مسلسل دن رات میں،،،
لذیز تِکہ، بریانی اور فروٹ چاٹ،،،
مصالحہ خود بخود مکس ہے ہر سوغات میں،،،

( پوسٹ: 4 دسمبر 2016ء ۔ عنوان: خطرہ )
اب تو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ کہیں ہم یہ بھول ہی نہ جائیں کہ یوسف چودھری کون ہیں، اور ہم بارسلونا میں کسی یوسف چودھری کو جانتے بھی تھے یا نہیں۔۔۔
(پس منظر): یوسف چودھری کو پاکستان گئے ہوئے کافی دن ہوچلے تھے اور ہم اُنہیں مِس کررہے تھے، میری پوسٹ کے کمنٹس میں جناب نوید احمد اُندلسی نے فرمایا (درست) ، جناب ذولفقار بھائی المعروف پنجابی بیٹھک نے فرمایا (یوسف بھول جائو گے مگر حُسنِ یوسف نہیں)، یوسف چودھری نے ایک کارٹون پوسٹ کیا جس کے ساتھ انگریزی میں لکھا تھا (I am Here…)، حسن بیگہ نے لکھا (آپ کی وجہ سے مونتی گالہ کی کافی ویران ہوگئی ہے)، جواب میں پھر یوسف نے ایک رونے والا کارٹون پوسٹ کیا۔۔

( یوسف چودھری مرحوم کی کچھ یادیں )
( پوسٹ: 15مارچ 2017ء )
لگتا ہے گلدستے مفت ملے ہوئے ہیں اُنہیں،،
جو کمنٹ کریں یوسف تھما دیتے ہیں اُنہیں،،،،
پہلے جو ہتھوڑا تھا تو اب گلدستہ نشان ہے،،،،،،
دے مار سے پیش کار کا سفر مبارک اُنہیں،،،،،
(پس منظر): کچھ دنوں سے یوسف چودھری کے ہتھے ایک کارٹون آیا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہوتا تھا اور وہ بس ہتھوڑا برسائے ہی چلے جاتا تھا، یوسف ہر پوسٹ کے کمنٹ میں وہی ہتھوڑا چلا دیتے ازراہ مذاق، پھر ایک پھولوں بھرا گلدستہ اُن کے ہاتھ لگ گیا اور ہتھوڑے والے سے جان جو چھُوٹی تو ہر پوسٹ پہ گلدستے ہی گلدستے ہوجاتے، اِس پوسٹ پر بھی اُنہوں نے کوئی سات آٹھ گلدستے کمنٹ کئے تھے۔۔
( پوسٹ: 30 نومبر2020ء ۔ عنوان: نیب سے گذارش )
مملکتِ خدادادِ پاکستان کے محکمہ نیب سے گذارش ہے کہ جس جس پہ آپ کیس ڈالتے ہیں وہ پاکستان سے بھاگ نکلتا ہے اور جو نہیں بھاگتا اُس کی کوئی سیاسی مصلحت ہی ہوتی ہوگی،،،
ہماری بھی نیب سے گذارش بلکہ عرضی ہے کہ ہمارے دوست یوسف چودھری پاکستان گئے ہوئے ہیں اور میسج کرنے پر بھی جواب نہیں دے رہے تو اِک نِکا جیا کیس اُنہاں تے وی پائو، مینوں یقین ہے کہ سیاسی مصلحت اُنہاں دی کوئی نہیں، لہذا اُنہاں نوں تہاڈے توں بچ کے نَسنا ہی پیسی تے اُنہاں نوں پاکستان توں نسائو تے ذرا۔۔۔
(پس منظر): اِس پوسٹ کا پس منظرپوسٹ کے اندر ہی تقریباً واضع ہے، لیکن مجھے یہ حیرت ضرور ہے کہ یوسف صاحب نے میری اِس پوسٹ کا کوئی بھی جواب نہیں دیا اور نہ ہی اِسے لائق کیا، میرا خیال ہے یہ پوسٹ اُن کی نظروں میں آئی ہی نہیں ہوگی۔۔
۔۔۔۔۔
(یوسف چودھری صاحب کے انتقال پُر ملال کے بعد کی تین پوسٹیں)
( پوسٹ: 3 اپریل2021ء )
پہلے جب میں کسی کو روتے دیکھتا تھا تو یہی سمجھتا تھا کہ رونا کس قدر مشکل کام ہے اور لوگ کیسے رو لیتے ہیں، لیکن جب سے یوسف چودھری کے وصال کی خبر سُنی ہے تو رونا کس قدر آسان لگ رہا ہے، آنکھیں مسلسل برس رہی ہیں اور مشترک دوستوں کے ساتھ بات کرنا کس قدر مشکل محسوس ہورہا ہے جو یوسف چودھری کے قہقوں کے چشم دید گواہ تھے، قہقے لگانے پر مجبور کرنے والا شخص آج میرے
( یوسف چودھری مرحوم کی کچھ یادیں )
ساتھ ساتھ بہت سو ں کو رولا گیا ہے، اللہ پاک غریقِ رحمت فرمایں، آمین یاربِ کریم۔۔۔
( پوسٹ: 4 اپریل 2021 ء )
مُسکرانا جس کی تھی عادت،،،،،
وہ چہرہ اب چُھپ سا گیا ہے،،،
عارضی سے ابدی سفر کی خاطر،،،
یوسف آج لحد میں اُتر گیا ہے،،،
( پوسٹ: 5 اپریل 2021ء ۔ عنوان: صدقہ جاریہ )
پرسوں جب ہمارے دوست یوسف چودھری مرحوم کے انتقال پُرملال کی خبر مجھے ملی تو انتہائی کوشش کے باوجود کسی نہ کسی تصویر یا تعزیتی پوسٹ کو دیکھتے ہوئے میں رونے لگ پڑتا اور صبر کا دامن چھوٹ جاتا۔
کل شام میں بارسلونا سنٹر اُستاد جی جناب نوید احمد اُندلسی صاحب کے پاس اِظہارِ افسوس کیلئے گیا کیونکہ اُستاد جی ایک تو ہمارے اُستاد ہیں دوسرے بارسلونا میں یوسف اور دیگر قریبی دوستوں کے ساتھ دوستی کی بنیاد ہیں، یوسف چودھری سے بھی میری پہلی ملاقات اُستاد جی کے دفتر میں ہی ہوئی تھی اور وہ ایسا کمال شخص تھا کہ پہلی ملاقات کے پانچ منٹ بعد ہی ساری اجنبیت ایک طرف ہوجاتی اور بندہ اُس کی باتوں کے ساتھ ساتھ اُس کی مُسکراہٹوں کا اسیر ہوتا چلا جاتا۔
کل شام اُستاد جی کے دفتر میں اقبال چودھری صاحب، پٹواری صاحب اور ندیم بیگ مرزا صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، یوسف کیلئے فاتحہ خوانی کے ساتھ ساتھ اُستاد جی یوسف کی مُسکراہٹوں سے لبریز قصے بھی مجھے یاد کرا رہے تھے تو ہم سب یوسف کو متصور کئے مُسکرا بھی رہے تھے۔
مُسکرانا بھی تو ایک صدقہ جاریہ ہے اور یوسف اپنا یہ صدقہ جاریہ ہمارے درمیاں چھوڑ گئے ہیں، یوسف چودھری ہم دوست آپ کو بھولیں گے نہیں بلکہ جب جب اکٹھے ہوا کریں گے آپ کیلئے دُعا کے ساتھ ساتھ آپ کو یاد کرکے آپ کی موجودگی میں جس طرح مُسکرایا کرتے تھے اب بھی مُسکرائیں گے اور آپ کے اِس صدقہ جاریہ کو زندہ و جاری رکھیں گے ، انشااللہ
٭٭
یہاں میں نے کافی ساری پوسٹیں چھوڑ دیں ہیں کیونکہ وہ پوسٹیں تصاویر کے ساتھ تھیں اور تصاویر کے بغیر اُن کا پس منظر بیان کرنے کو کئی صفحات درکار ہوتے، ویسے بھی یوسف چودھری جیسے ہردلعزیز کی یادوں کو زندہ رکھنے کیلئے ایک مضمون کافی نہیں ہے۔۔۔
٭٭٭
6 اپریل 2021 ء بارسلونا، سپین

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *