Categories
Breaking news

لگتا ہے وزیراعظم نے عدالتی فیصلہ ٹھیک سے نہیں پڑھا: سپریم کورٹ

Advertisement

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اراکین اسمبلی کو جاری کیے گئے ترقیاتی فنڈز پر لیے گئے نوٹس کی پہلی سماعت میں وزیراعظم کے سیکریٹری کی جانب سے جمع کروائے گئے خط کو مسترد کردیا، مزید یہ وزیراعظم کے دستخط کے ساتھ سیکریٹری خزانہ سے فنڈز سے متعلق واضح جواب طلب کرلیا۔

ساتھ ہی بینچ کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ خط میں عدالتی سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے، لگتا ہے وزیراعظم نے عدالتی فیصلہ ٹھیک سے نہیں پڑھا۔

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے لیے گئے نوٹس پر مذکورہ معاملے کی سماعت کی، جہاں سیکریٹری وزیراعظم اعظم خان کی جانب سے خط پیش کیا گیا جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا نوٹس لیا تھا اور معاملے پر سماعت کے لیے بینچ تشکیل دینے کا معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا تھا۔

جس پر گزشتہ روز چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں ایک 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا، جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شامل ہیں، بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

آج جب کیس کی پہلی سماعت ہوئی تو سندھ کے سوا تمام صوبوں نے اپنے جواب جمع کروائے جبکہ وزیراعظم کے سیکریٹری اعظم خان کا خط عدالت میں پیش کیا گیا اور اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان و دیگر حکام بھی پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی کی ترقیاتی اسکیموں پر عمل آئین سے مشروط ہے، وزیر اعظم کو معلوم ہے کہ سرکاری فنڈز کا غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا جبکہ کسی رکن اسمبلی کو پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اٹارنی جنرل میں مکالمہ ہوا اور فاضل جج نے پوچھا کہ وزیراعظم کے سیکریٹری کا خط کس نے ڈرافٹ کیا، جس پر خالد جاوید نے جواب دیا کہ یہ وکیل اور موکل کا آپس کا معاملہ ہے۔

اس پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ خط کی انگریزی درست نہیں ہے، خط میں عدالتی سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے، لگتا ہے وزیراعظم نے عدالتی فیصلہ ٹھیک سے نہیں پڑھا، وزیراعظم نے شاید فنڈز دینے کے لیے دروازہ کھلا رکھنے کی کوشش کی۔

جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ ہر روز وزارت اطلاعات سے معلومات کی بھرمار ہوتی ہے، اخبار میں جو خبر شائع ہوئی ہے اگر وہ غلط ہے تو وزارت اطلاعات یا وزیراعظم نے اب تک اس اخباری خبر کی تردید کیوں نہیں کی، سارے میڈیا نے خبر چلا دی اور وزیراعظم خاموش ہیں۔

جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وزیراعظم ہر خبر کی تردید کرنے لگ گئے تو کوئی اور کام نہیں کر سکیں گے، اس پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ وزیراعظم یا اپنی بات پر قائم رہیں یا کہہ دیں کہ ان سے غلطی ہوگئی، وزیراعظم اپنے سیکریٹری کے پیچھے کیوں چھپ رہے ہیں؟

سماعت کے دوران سربراہ بینچ چیف جسٹس نے سندھ حکومت کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے کے بارے میں استفسار کیا جس پر صوبائی حکومت کے وکیل نے کہا کہ سندھ حکومت نے کسی رکن اسمبلی کو فنڈز نہیں دئیے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کو جواب تحریری طور پر جمع کرانا چاہیے تھا۔

Advertisement

بعد ازاں عدالت نے کہا کہ حکومت سندھ آج ہی جواب جمع کرائے تاکہ اس کا جائزہ لے سکیں۔

ساتھ ہی عدالت نے سیکریٹری خزانہ سے بھی واضح جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس جواب پر وزیراعظم کے بھی دستخط ہوں۔

اب اس کیس کی مزید سماعت کل ہوگی۔

معاملے کا پس منظر

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 جنوری کو پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قانون سازوں کا اپنے حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا تھا۔

وزیراعظم نے پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت ہر رکن قومی اور صوبائی اسملبی کے لیے 50 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا تاکہ وہ اپنے ووٹرز کے لیے ترقیاتی اسکیمیں شروع کرسکیں۔

بعد ازاں 3 فروری کو ایک کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ہر رکن اسمبلی کو 50 کروڑ روپے کی ترقیاتی گرانٹ دینے کی اخباری خبر کا نوٹس لیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مقبول باقر کی 2 رکنی بینچ نے 4 صفحات پر مشتمل حکم نامہ لکھا تھا آئین کی دفعہ 5(2) جو بتاتی ہے کہ آئین اور قانون کی اطاعت ہر شہری کی ناقابل قبول ذمہ داری ہے اور دفعہ 204(2) جو سپریم کورٹ کو عدالتی حکم کی پاسداری نہ کرنے والے شخص کو سزا دینے کا اختیار دیتی ہے، کا حوالہ دیا گیا تھا۔

مزید یہ کہ ججز کے عہدے کے لیے اٹھایا گیا حلف بھی انہیں آئین کے تحفظ اور اس کے دفاع کی ذمہ داری سونپتا ہے۔

اس کیس کے ابتدائی حکم نامے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ قومی اخبارات بشمول معتبر روزنامے ڈان میں 28 جنوری 2021 کو 'ہر قانون ساز کیلئے 50 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری' کی ہیڈ لائن کے تحت یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں جس میں ایک وزیر کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم نے رکن قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے 50 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرواسکیں۔

اسی طرح یکم فروری کو اسی اخبار نے 'ترقیاتی فنڈز کے عنوان سے ایک اداریہ لکھا جس میں وزیراعظم کی جانب سے اپنی پارٹی کے ہر رکن قومی و صوبائی اسمبلی کو ان کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے نصف ارب روپے دینے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *