Categories
Breaking news

فیصل واڈا کے لیے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کا آخری موقع

Advertisement
Advertisement

فیصل واڈا کے لیے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کا آخری موقع

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دہری شہریت پر وفاقی وزیر فیصل واڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر دلائل تیار کرنے کے لیے ان کی جانب سے کے حال ہی میں مقرر کیے گئے وکیل کو ایک ماہ کا وقت دے دیا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ یہ فیصل واڈا کے لیے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کا آخری موقع ہے۔

وفاقی وزیر پر الزام ہے کہ جب انہوں نے سال 2018 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تو وہ اس وقت دہری شہریت کے حامل تھے۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ سیکریٹری ہارون دگل عدالت میں اپنا وکالت نامہ جمع کرواتے ہوئے آگاہ کیا کہ ان سے قبل فیصل واڈا کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے وکالت نامہ واپس لے لیا تھا اور چونکہ انہیں کیس کے حقائق کا علم نہیں اس لیے انہیں دلائل تیار کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ معاملہ بہت سادہ ہے، درخواست گزار نے فیصل واڈا کے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے ریٹرننگ افسر کو پیش کی گئی دستاویزات پر انحصار کیا ہے۔

جج کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ فیصل واڈا نے کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی پر دستخط کیے تھے تو وکیل کو سپریم کورٹ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے 3 سینیٹرز کی نااہلی کے مقرر کردہ معیار کے حوالے سے عدالت کی معاونت کرنی ہے۔

خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ اگر امیدوار نے کاغذات نامزدگی کروانے والی تاریخ تک دوسرے ملک کی شہریت ترک نہ کی اور اس کی درخواست اس ملک میں اس وقت تک قبول نہ ہوئی ہو تو وہ انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہے۔

درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر جہانگیر خان جدون نے عدالت کو بتایا کہ وزیر انصاف کا مذاق اڑا رہے ہیں اور وکیل کی تبدیلی تاخیری حربہ ہے۔

تاہم جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ چونکہ معاملہ کابینہ کے رکن کو عہدے سے ہٹانے کا ہے تو عدالت جلد بازی سے کام نہیں لے گی، ساتھ ہی انہوں نے فیصل واڈا کے وکیل کو عدالت کا صبر نہ آزمانے کی بھی ہدایت کی۔

گزشتہ سماعت میں الیکشن کمیشن کے سینئر وکیل ثنا اللہ زاہد نے فیصل واڈا کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے پیش کی گئی دستاویز عدالت میں جمع کروائی گئی تھیں۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ ان کا 11 جون 2018 کا حلف نامہ اس حقیقت سے متصادم تھا کہ فیصل واڈا نے اس برس 25 جون کو اپنی امریکی شہریت ترک کی۔
درخواست کے مطابق فیصل واڈا نے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے اپنی دہری شہریت چھپائی اور الیکشن کمیشن کے سامنے جھوٹا حلف نامہ پیش کیا کہ ’ان کے پاس کوئی غیر ملکی شہریت نہیں ہے‘۔

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی وزیر نے کاغذات نامزدگی 28 جون کو جمع کروائے تھے جو کاغذات جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی۔

ساتھ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ فیصل واڈا نے اپنی امریکی شہریت ترک کے لیے کراچی کے امریکی قونصل خانے میں 22 جون کو درخواست جمع کروائی تھی جس پر انہیں 25 جون کو سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔

عدالت عظمیٰ کے متعلقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست میں کہا گیا کہ چونکہ فیصل واڈا کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے دہری شہریت کے حامل تھے، انہوں نے اپنی امریکی شہریت چھپائی اور شہریت سے متعلق جھوٹا حلف نامہ جمع کروایا اس لیے انہیں قومی اسمبلی کی نشست اور وزیر کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔

بعدازاں عدالت نے اس کیس کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کردی۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *