Categories
Breaking news

فوڈ ڈیلوری کرنے والی خواتین کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،خوراک ترسیل کرنے والی خاتوں نے خاموشی توڑ دی

بارسلونا(محمد نبی) کھانا ترسیل کرنے والی خواتین ڈرائیورز کو نامساعد حالات کا سامنا رہتا ہے۔ لوگ ان پر طرح طرح کے کمنٹ کرتے ہیں اور جنسی طور پر ہراسان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹریڈ یونین سی سی او او نے ایک سروے میں کئی ملازمین سے بات کی اور ان کے حالات جاننے کی کوشش کی۔ فوڈ ڈیلوری سے منسلک ایک خاتوں ورکر عنا میسونز نے کہا کہ جب وہ 100 بار مختلف گھرانوں میں خوراک ڈیلور کرنے گئی تو 10 بار اس کو نامناسب کمنٹس جو جنسی ارادوں کو ظاہر کرتے تھے، کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کو ایسی حالت کا سامنا رہا، انہوں نے ہمیشہ خود کو غیر محفوظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جب گھروں کو جاتی ہیں تو اکثر مرد انہیں شراب کی آفر کرتے ہیں اور اندر آنے کا کہتے ہیں۔
اس نوعیت کا کام کرنے والی خواتین کو سرپرست اور محافظ نہیں ملتے۔ پلیٹ فارمز سے ہدایات ہیں کہ شکایات نہ لے آئیں۔ کمپنی گلوو کے ذرائع نے اے سی این نیوز کو بتایا کہ ان کے ہاں جنسی ہراسان کرنے والوں اور امتیاز برتنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں اور نا قابل برداشت عمل ہوگا۔ مگر جب ان سے پوچھا گیا کہ فیمل ڈرائیورز کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کئے جاتے ہیں؟ تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ جب یہ سوال ڈیلیورواوراوبرایٹس سے کیا گیا تو انہوں اس پر کمنٹ کرنے سے احتراز کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *