Categories
Breaking news

فضل الرحمٰن کے خلاف اُن کی جماعت میں تحریک شروع ہوگئی ہے، شبلی فراز

فضل الرحمٰن کے خلاف اُن کی جماعت میں تحریک شروع ہوگئی ہے،  شبلی فراز

Advertisement

وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف ان کی اپنی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) میں تحریک شروع ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شبلی فراز نے کہا کہ پی ڈی ایم ڈکیت موومنٹ ہے، جس کی تحریک دم توڑ رہی ہے۔

Table of Contents

x
Advertisement

انہوں نےدعویٰ سے کہا کہ پی ڈی ایم کی صدارت کرنے والے کیخلاف خود ہی تحریک شروع ہوگئی ہے، جے یو آئی ف میں بغاوت ہوئی ہے، پارٹی نے فضل الرحمان کی قیادت پر عدم اعتماد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے خود کو دنیاوی چیزوں میں مبتلا کرلیا ہے، وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو ٹکٹ دیتے ہیں، ان کی پارٹی میں عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ حافظ حسین احمد اور مولانا شیرانی نے فضل الرحمٰن کو راہ راست پر آنے کا کہا، جے یو آئی(ف) کے سربراہ کا رویہ فاشسٹ ہے۔

انہوں نےکہا کہ آپ نے اپنے لوگوں کو پارٹی سے نکال دیا ہے، جب کوئی لیڈر پارٹی نظریے پر کمپرومائز ہونے لگے تو مسائل شروع ہوجاتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ جو الیکشن کی بات کررہا ہے اس کا اپنا رویہ غیر جمہوری اور فاشسٹ ہے، آپ حق کی بات سننا نہیں چاہتے، اسلام کا لبادہ آپ نے اوڑھا ہے، آپ دین کی خدمت کی بجائے اقتدار کیلئے کوشش کررہے ہیں۔

شبلی فراز نے کہا کہ پی ڈی ایم ایک جمہوری حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کررہی ہے، پی ڈی ایم میں تضادات ہیں، کوئی استعفے دینا چاہ رہا ہے کوئی نہیں دے رہا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی کارکردگی کو تحریک انصاف نے آشکار کیا ہے، ان کی کارکردگی کی وجہ سے لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے ہمارا مطالبہ تھا کہ 4 حلقے کھولے جائیں، جب وہ کھلے تو دھاندلی ثابت ہوئی۔

شبلی فراز نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کریں، آپ ثابت نہیں کرسکے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں، آپ کو این آر او نہیں ملا تو تحریک شروع کردی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کا وتیرہ رہا ہے کہ وہ کرپشن کیسز کا جواب دینے کے بجائے دھمکی پر اتر آئے ہیں، یہ جمہوری حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *