Categories
Breaking news

فریڈم نیٹ ورک کا 3 میڈیا پرسنز پر فردِ جرم عائد کرنےکے حکم پر اظہارِ مایوسی

فریڈم نیٹ ورک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ کے سابق چیف جج گلگت بلتستان کے ہمراہ تین میڈیا پرسنز پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے حکم پر اظہار مایوسی کیا ہے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے بیان میں کہا کہ میڈیا پرسنز نے رپورٹنگ کرکے کوئی جرم نہیں کیا، عدالتی حکم سے ملک میں آزادی صحافت کو نقصان پہنچے گا اور تحقیقاتی صحافت کرنے کے حوالے سے بری مثال قائم ہوگی۔

میڈیا پرسنز پر فرد جرم عائد کرنے فیصلے پر فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پرسنز کے خلاف توہین عدالت کے الزامات بلا ضرورت ہیں۔

اقبال خٹک نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 میڈیا پرسنز پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے پر سخت مایوسی ہوئی، میڈیا پرسنز پر گلگت بلتستان کے ایک سابق جج کے ہمراہ توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ مایوس کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایڈیٹر انویسٹی گیشن نے اشاعت سے قبل دستاویز کی تصدیق کی، امید ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس الزامات کے باعث اظہار رائے کی آزادی پر ہونے والے تباہ کن اثرات کو مد نظر رکھیں گے۔

اقبال خٹک نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے میڈیا پرسنز کے حوالے سے رائے پر نظر ثانی کی درخواست ہے، اس معاملے میں میڈیا صرف ایک پیغام رساں ہے، نہ کہ توہین کرنے والا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو توہین عدالت کے ملزم کے ساتھ ملانا، پیغام رساں کو گولی مارنے کی مثال کے مترادف ہو گا، اس سے پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی پہلے سے گمبھیر صورت حال پر منفی اثرات ہوں گے، پاکستان کا شمار صحافت کے اعتبار سے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

اقبال خٹک نے مزید کہا کہ میڈیا گزشتہ تین سالوں سے ریاستی اور غیر ریاستی سرپرستی میں ہونے والے حملوں کی صورت حال میں عدلیہ کی طرف دیکھ رہا ہے، میڈیا پر حملے شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کا دفاع کرنے کی وجہ سے ہورہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.