Categories
Breaking news

فرانسیسی فورسز کا آپریشن، برطانیہ جانے کے خواہشمند تارکین وطن کا کیمپ ختم

راچڈیل(ہارون مرزا)فرانسیسی سیکیورٹی فورسز نے کلیس کے قریک ایک آپریشن کے دوران برطانیہ جانے کے خواہشمند افراد کیلئے قائم تارکین وطن کے کیمپ کو ختم کر دیا ۔کلیس کے علاقے میں قائم جنگل میں واقع کیمپ کو نیم مستقل آبادکاری کا حصہ بننے سے روکنے کیلئے اس پر آپریشن کیا گیا، اس خصوصی آپریشن میں سیکڑوں پولیس اہلکار اور سیکورٹی فورسز کے لوگ شریک ہوئے، اس کیمپ کا مقصد زیادہ تر نوجوان مرد تارکین وطن کو سرکاری پناہ گاہوں میں منتقل کرنا تھا، یہاں سے تارکین وطن کی برطانیہ کیلئے اسمگلنگ کا بھی انکشاف ہوا، برصغیر سے برطانیہ جانے والے مہاجرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ سامنے آیا ہے، رواں سال اب تک چار ہزار پانچ سو کے قریب افراد برطانیہ منتقل ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ ایک ہفتے میں ایک ہزار کے قریب غیر قانونی تارکین وطن برطانیہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ہوم آفس کے اعدادوشمار کے مطابق کل مجموعی طور پر 201 مہاجرین نے چینل کراس کو عبور کیا۔فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز 171 افراد کو کراسنگ کرنے سے روکا گیا تھا،وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارامن نے ٹویٹ کیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور ان ایجنٹوں کا شکریہ جو موثر طریقے سے خدمات نبھا رہے ہیں، کلیس طویل عرصے سے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لئے مقناطیس رہا ہے جو برطانیہ پہنچنے کی امید میں وہاں کا سفر کرتے ہیں یا تو ٹرینوں یا فیریوں پر چڑھائی کی جاتی ہے ۔ ٹرینوں، فیریوں ، ڈنکیوں یا چھوٹی کشتیوں کا سہارا لیکر برطانیہ داخلے کی کوشش کی جا تی ہے، جنگل میں بدنام کیمپ کو 2016میں فرانسیسی پولیس نے مہندم کر دیا تھا، جہاں تقریبا 10ہزار افراد نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، کلیس کے مقامی رہائشی کچرے اور جرائم کی شکایت کرتے ہیں جبکہ کیمپوں میں وقتاً فوقتاً پھیلنے والے واقعات اکثر مختلف قومیتوں یا نسلی گروہوں کے مابین پولیس مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے۔

کلیس میں کام کرنے والے مہم گروپوں اور این جی اوز کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو حکام نے بنیادی حفظان صحت یا خوراک تک رسائی کے بغیر انتہائی خراب حالات میں زندگی گزارنے کے لئے چھوڑ دیا ہے اور انہیں سیکیورٹی فورسز کے ذریعہ معمول کے مطابق ہراساں کیا جاتا ہے، امداد فراہم کرنے والے اوبرج ڈس تارکین وطن گروپ کے سربراہ فرانسکوئس گینونک نے کہا کہ کیمپ کو ختم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا،کسی بھی معاملے میں لوگ حرکت کرتے ہیں وہ کہیں اور جاتے ہیں یہ ایک نہ ختم ہونے والا سفر ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *