Categories
Breaking news

فارن فنڈنگ کیس کے جلد فیصلے کے لیے پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج

Advertisement
Advertisement

فارن فنڈنگ کیس کے جلد فیصلے کے لیے پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے کارکن اور رہنما تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے لیے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کررہے ہیں۔

حزب اختلاف کی بڑی اتحادی جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) تحریک انصاف کے خلاف گزشتہ کئی برسوں سے جاری فارن فنڈنگ کیس کے جلد فیصلے کے لیے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کررہی ہے۔ کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعداد راولپنڈی سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا سے کارکنوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے جب کہ پی ڈی ایم کی قیادت مولانا فضل الرحمان کے گھر سے خصوصی کنٹینر پر سوار ہوکر الیکشن کمیشن پہنچے گی۔

حکومت نے پی ڈی ایم کو ریڈ زون میں احتجاج کی اجازت دے رکھی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ اگر قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی گئی تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے تدارک کے لیے سیکیورٹی انتہائی ہائی الرٹ ہے، الیکشن کمیشن کے دروزاے کے سامنے بلاک کے ساتھ خار دار تاریں لگادی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سیف سٹی کیمروں اور ڈرونز کی مدد سے بھی تمام صورتحال پر نظر رکھی جائے گی۔
فارن فنڈنگ کیس کا پس منظر

2014 میں تحریک انصاف ہی کے منحرف رکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں پارٹی فنڈز میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی۔ ان کا موقف ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ غیر ملکیوں سے بھی فنڈز حاصل کیے، جس کی پاکستانی قانون اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں جماعت کے لیے وہاں پر رہنے والے پاکستانیوں سے چندہ اکھٹے کرنے کی غرض سے لمیٹڈ لائبیلیٹیز کمپنیاں بنائی گئی تھیں جن میں آنے والا فنڈ ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ پارٹی نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل نہیں کیے، بیرون ملک سے تمام حاصل ہونے والے فنڈز کے دستاویزات موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن میں درخواست کی سماعت رکوانے کے لیے تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے 6 مرتبہ رجوع کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس کسی جماعت کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کا اختیار نہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف بھی اسی نوعیت کی درخواستیں الیکشن کمیشن میں دائر کیں، اس معاملے کی تحقیقات کے لئے خصوصی اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *