Categories
Breaking news

غیرملکی فنڈنگ کیس، PTI نے اعتراض اٹھا دیا

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران تحریکِ انصاف کے وکیل انور منصور نے اعتراض اٹھا دیا۔

الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل انور منصور الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

وکیل انور منصور نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوٹس الیکشن کمیشن نے نہیں سیکریٹری نے 5 اگست کو پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کے رول 6 کے تحت جاری کیا، نوٹس میں نہیں لکھا کہ یہ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر جاری کیا گیا، نوٹس الیکشن کمیشن کو جاری کرنا چاہیے، سیکریٹری کے پاس اس کے اجراء کی اتھارٹی نہیں۔

انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی بھی صورتِ حال میں کسی کو بھی اپنی اتھارٹی نہیں دے سکتا، الیکشن کمیشن کے اختیارات کسی ماتحت افسر کو نہیں سونپے جا سکتے۔

چیف الیکشن کمشنر نے سوال کیا کہ کیا کابینہ کے فیصلے پر سب وزیر دستخط کرتے ہیں؟ کابینہ کے فیصلے کے بعد کابینہ کے نہیں سیکریٹری کے دستحط ہوتے ہیں، آپ کہنا چاہتے ہیں کمیشن کے تمام ممبران سائن کریں؟

پی ٹی آئی نے وکیل نے کہا کہ میں نے ایک درخواست بھی دی ہے، گواہان اور شاہدین کو بلانا چاہتا ہوں، آپ نے شوکاز نوٹس دیا ہے جو نیا پراسس ہے، مجھےجرح میں رپورٹ بنانے والوں اور بینک افسران کو کراس ایگزامن کرنا ہے۔

دورانِ سماعت ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے کہا کہ یہ ایک الگ پراسس ہے، وہ پہلے الگ پراسس تھا، آپ نے اسکروٹنی میں شوکاز نہیں دیا تھا، ہم نے صرف اکاؤنٹ کی اسکروٹنی کی، پروسیڈنگ کا شوکاز نوٹس پہلا مرحلہ ہے، ابھی تک صرف معلومات ہے، بس ایک آرڈر ہے۔

وکیل انور منصور نے یہ بھی کہا کہ شوکاز کے بعد لازمی ہو گیا کہ میں جرح کروں، گواہان بھی لاؤں، ان افراد سے بات بھی کروں کہ اسکروٹنی رپورٹ میں کیا ہوا۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *