Categories
Breaking news

علیحدگی پسند سیاست دان جیل سے باہر مگر آگے کیا ہوگا؟ جانئے ماہرین کے آراء

بارسلونا (محمد نبی) 2017 کے ریفرنڈم میں کردار ادا کرنے پر ایک عشرے پر محیط سزا پانے والے علیحدگی پسند رہنماؤں کو گزشتہ روز رہا کر دیا گیا۔ ان کو ہسپانوی حکومت کی طرف سے معافی ملی تھی۔ بلاشبہ یہ ایک اہم پیش رفت تھی۔ ہسپانوی حکومت اور کاتالونیا کے درمیان کشیدہ سیاسی صورت حال میں حالیہ اقدام بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم منظر نامے پر اب بھی دھند چھائی ہے اور مستقبل کے خدشات برقرار ہیں۔ اب ایسے میں کہ 9 قیدی رہنما سزاؤں سے چھوٹ پا کر گھر سدھار چکے ہیں، سوال اٹھ رہا ہے کہ “آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟”

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ معافیوں کو سپریم کورٹ میں چلینج کیا جا سکتا ہے لیکن یہ آسان نہیں ہوگا۔ قانون کے ایک پروفیسر نے کاتالان نیوز کے ساتھ انٹرویو میں بتایا کہ چلینچ کی صورت میں سپریم کورٹ فیصلے کو رویو کرے گی۔ لیکن اس کو کن بنیادوں پر اور کس طرح چلینج کیا جائے گا؟ چلینج کرنے کے لئے لازم ہے کہ فیصلے سے کوئی دوسرا متاثر ہو۔ لیکن معافی کے فیصلے سے کون متاثر ہوا ہے؟

مستقبل کا دوسرا منظر نامہ یہ ہے کہ حالات میں نرمی آنے پر کاتالونیا کی نئی منتخب حکومت مکالمے کو مقدم رکھے گی۔ آزادی کے لئے وہ ایک حکمت عملی اپنانے کے لئے پہلے سے پر عزم رہی ہے۔ ایراگونس کی کابینہ میڈرڈ سے ریفرینڈم قبول کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گی۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہےکہ رہائی پانے والے سیاست دانوں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے اور ان کو 100 فیصد چھوٹ نہیں ملی ہے۔ ان کے سرکاری عہدہ رکھنے پر پابندی ہے اور اس طرح وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے پائیں گے۔ وہ انہی جرائم کا دوبارہ ارتکاب نہیں کر سکیں گے جن کی وجہ سے سزا ہوئی تھی۔ اس طرح مستقبل میں ایک بے یقینی کی صورت حال جاری رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *