Categories
Breaking news

علماء نے مذہب کےنام پر دہشتگردی اور فرقہ وارانہ تشددکو خلاف اسلام قرار دیدیا

Advertisement
Advertisement

علماء نے مذہب کےنام پر دہشتگردی اور فرقہ وارانہ تشددکو خلاف اسلام قرار دیدیا

ایوانِ صدر میں ہونے والی وحدت امت کانفرنس میں مختلف مکتبہ فکر کے علمائے کرام نے مذہب کے نام پردہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ وارانہ تشدد اور قتل وغارت کو خلافِ اسلام قرار دیا ہے۔

اسلام آباد میں وحد ت اُمت کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور مشائخ نے شرکت کی،کانفرنس کا مقصد اتحاد بین المسلمین کا فروغ اور فرقہ واریت کا تدارک تھا۔
صدر مملکت عارف علوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک قوم بننے کے لیے تفرقے سے بچنا ہوگا، اللہ نے قرآن میں بتا دیا ہے کہ کفر کسے کہتے ہیں،اس کا فیصلہ میں اور آپ کر بھی نہیں سکتے اور کہہ بھی نہیں سکتے۔

ان کاکہنا تھاکہ بعض رہنماؤں کے جذباتی بیانات سے نفرتیں بڑھتی ہیں اور جہالت پر مبنی اختلافات تفرقے کا باعث بنتے ہیں، ماضی میں ایران اور عراق کو لڑایاگیا، ایران عراق جنگ میں 10 لاکھ افراد کی جانیں گئیں، آپس کی نا اتفاقی و ناچاقی نے عراق اور شام کو تباہ کردیا۔

صدرکا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کوکافر قرار دینے کے طرز عمل سے گریزکرنا ہوگا، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ امت کی وحدت کا مرکز ہیں، وزیراعظم عمران خان نے اسلام کے خلاف نفرت اور حضورﷺ کی ناموس کے تحفظ کیلئے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔

اس موقع پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور مشائخ نے بھی خطاب کیا۔

توہینِ اہلِ بیت کرنیوالوں سے علماء کا اظہار لاتعلقی
کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ جاری گیا جس میں تمام علماء نے توہینِ اہلِ بیت کرنے والے مقرر، خطیب، ذاکر یا واعظ سے اعلانِ لاتعلقی کیا اور کہا کہ کوئی مقرر صحابہ کرامؓ ،خلفائے راشدینؓ اور ازواجِ مطہراتؓ کی توہین، تکفیرنہیں کرےگا، توہین کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

پاکستان میں خانہ جنگی کرانے کی سازش

اعلامیے میں کہا گیا کہ مذہب کےنام پردہشت گردی،انتہاپسندی، فرقہ وارانہ تشدد، قتل وغارت خلافِ اسلام ہے، تمام مکاتبِ فکر مذہب کے نام پردہشت گردی سے اعلانِ لاتعلقی کرتے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر قرار نہ دیا جائے اور کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے جب کہ شرانگیز، دل آزار کتابوں، پمفلٹوں اور تحریروں کی اشاعت،تقسیم وترسیل نہ ہو۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں دیاجانے والافتویٰ ہی معتبر ہوگا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *