Categories
Breaking news

عدالت نے عربی شہری کی درخواست کیوں مسترد کی؟ جانیے تفصیلات

Advertisement
Advertisement

عدالت

متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ کی عدالت نے عربی شہری کی درخواست مسترد کردی جس میں اُس نے سسرال والوں پر سنگین الزامات عائد کیے اور انہیں ثابت نہیں کرسکا۔

راس الخیمہ کی سول عدالت میں عرب سے تعلق رکھنے والے باشندے نے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ اُس نے سابقہ بیوی کے والد کے لیے 4 لاکھ 35 ہزار درہم کی گاڑی خریدی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ اب بیوی سے میرا کوئی تعلق نہیں اس لیے عدالت رقم یا پھر گاڑی واپس دلوائے۔

شہری نے دعویٰ کیا کہ سُسر کے مطالبے پر اُس نے اپنی جمع پونجی اور بیوی کا زیور فروخت کرنے کے بعد چار لاکھ 35 ہزار درہم کی گاڑی خرید کر دی تھی۔

درخواست گزار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُس نے اپنی سابقہ بیوی کے بھائی کے لیے یہ گاڑی خریدی، علاوہ ازیں وہ گاڑی کی مرمت کے پیسے بھی دیتا رہا اور گیارہ سال تک ماہانہ رقم دیتا رہا۔

عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیا جہاں مدعی کسی بھی قسم کا ثبوت پیش نہ کرسکا، اُس نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کا فیصلہ سابقہ بیوی کے والد کے خلاف جاری کیا جائے۔

دوسری جانب لڑکی کے والد نے اپنے سابق داماد کے الزامات کو لغو اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’گاڑی تو دور کی بات میں نے اپنے داماد سے کسی قسم کی کوئی رقم نہیں لی‘۔

عدالت نے عدم شواہد اور ثبوت کی بنا پر درخواست گزار کے خلاف فیصلہ سُنایا اور اُسے عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *