Categories
Breaking news

عاصم اظہر کی اپنی میم والی پوسٹ پر وضاحت

پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار عاصم اظہر نے اپنی حالیہ میم والی پوسٹ پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں طویل عرصے سے خاموش تھا اور اب میری ایک پوسٹ سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوگئے ہیں جبکہ وہ پوسٹ کسی مخصوص شخص کے لیے نہیں تھی۔واضح رہے کہ اداکارہ ہانیہ عامر اپنی وائرل ویڈیو کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہیں تاہم گزشتہ روز عاصم اظہر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک مزاحیہ میم شیئر کی تھی اور صارفین نے گلوکار کے اس ٹوئٹ کو ہانیہ عامر کے معاملے کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔عاصم اظہر کی مزاحیہ میم کے بعد ہانیہ عامر کے مداحوں کی جانب س اُنہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد گلوکار کی جانب سے ایک وضاحتی پیغام جاری کیا گیا ہے۔
گلوکار نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک طویل پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’اب بات یہاں تک آگئی ہے تو یہ تمام لوگ گزشتہ ڈیڑھ سال سے کہاں تھے؟ جب مجھے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، میرا مذاق اُڑایا جارہا تھا اور ہر جگہ مجھے گھسیٹا جارہا تھا۔‘اُنہوں نے کہا کہ ’میں نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی اور اب میری صرف ایک پوسٹ نے لوگوں کے جذبات مجروح کردیے ہیں جبکہ میں نے وہ میم کسی کے لیے شیئر نہیں کی تھی۔‘عاصم اظہر نے کہا کہ ’الحمداللّہ! میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے بہت خوش ہوں، میری فیملی بھی مجھ سے خوش ہے اور میں بہترین میوزک بھی تیار کررہا ہوں۔‘اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے آج بھی یاد ہے جب ہر کوئی مجھ پر تنقید کررہا تھا اور میرا مذاق بناکر مزے لے رہے تھے تو اُس وقت کسی نے میرے حق میں آواز بُلند نہیں کی تھی۔‘گلوکار نے کہا کہ ’میری پوسٹس پر تنقید بھرے تبصرے کیے جاتے تھے، لوگ لائیو سیشن کرکے میرے بارے میں باتیں کررہے تھے اور آج وہ لوگ مظلوم بن کر بیٹھ گئے ہیں؟ ویسے دوغلے پن کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔‘عاصم اظہر نے کہا کہ ’آج یہاں یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے، ویسے تو سب کچھ پہلے ہی ختم ہوچکا تھا لیکن کچھ لوگوں کو بتانا ضروری تھا کہ ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے، اگر آپ انسان ہیں تو میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔‘اُنہوں نے مزید کہا کہ ’جو بھی ہوا بہت بُرا ہوا اور میں اُمید کرتا ہوں کہ لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔‘
واضح رہے کہ ماضی میں عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کے درمیان گہری دوستی قائم تھی تاہم گزشتہ سال دونوں نے دوستی ختم کردی تھی جس کے بعد گلوکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *