Categories
Breaking news

طوفان کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے بتا دیا

طوفان کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے بتا دیا

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان تاؤتے کے باعث گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشیں ہوسکتی ہیں جبکہ شدت کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔

سمندری طوفان تاؤتے کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کراچی میں انتظامی اجلاس ہوا جس میں ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے بریفنگ دی۔

طوفان تاؤتے کراچی سے کتنی دور؟

کراچی کے جنوب مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ڈپریشن سمندری طوفان تاؤتے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

اجلاس میں سندھ حکومت کے ترجمان، مشیرِ قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، کمشنر کراچی نوید احمد شیخ، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ و دیگر نے بھی شرکت کی۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ویدر سسٹم بحیرہ عرب کے جنوب میں بن رہا ہے، سائیکلون کے 3 طرح کے اثرات ہوتے ہیں، ابھی دیکھنا ہے کہ سائیکلون کی رفتار کیا بنتی ہے۔

طوفان تاؤتے: کراچی سے بل بورڈ ہٹانے کی ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سمندری طوفان تاؤتے کے خدشے کے پیشِ نظر ایڈمنسٹریٹر کراچی کو شہر سے بل بورڈ ہٹانے کی ہدایت کر دی۔

انہوں نے بتایا کہ سائیکلون بھارتی گجرات عبور کرتا ہے تو ٹھٹھہ، بدین، میر پور خاص، عمر کوٹ اور سانگھڑ ڈسٹرکٹ پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے بتایا کہ طوفان کے باعث ٹھٹھہ، بدین، میر پور خاص، عمر کوٹ، تھر پارکر اور سانگھڑ میں اچھی خاصی بارشیں ہوں گی، ٹھٹھہ اور دیگر اضلاع میں طوفانی بارشیں بھی ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ سائیکلون 17 سے 20 مئی تک ان اضلاع میں اپنے اثرات پیدا کرے گا، طوفان کراچی کا غربی علاقہ پار کرتا ہے تو کراچی، حب، لسبیبلہ، حیدر آباد، جامشورو میں 18 سے 20 مئی تک بارشیں ہوں گی۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ طوفان کے باعث اگر ہوا کی رفتار 22 سے 27 ناٹیکل میل ہوتی ہے تو یہ مٹی کا طوفان ہو گا۔

بریفنگ میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہوا کی رفتار 28 سے 33 ناٹیکل میل ہوتی ہے تو اس سے درختوں کو نقصان نہیں ہو گا، البتہ ہوا کی رفتار 34 سے 47 ناٹیکل میل ہوتی ہے تو اس سے گھروں کی چھتوں اور کھڑی فصلوں کو نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *