Categories
Breaking news

صومالیہ: صدر کا وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان، وزیر اعظم کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار

صومالیہ کے صدر محمد عبداللہ محمد اور وزیر اعظم محمد حسین روبلصومالیہ کے صدر محمد عبداللہ محمد نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم محمد حسین روبل کو ان کے عہدے سے برطرف کررہے ہیں۔

وزیر اعظم حسین روبل نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا ہے جس سے افریقی ملک میں طویل عرصے سے التوا کا شکار انتخابات پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر محمد عبداللہ محمد جو کہ فرماجو کے نام سے مشہور ہیں اور وزیر اعظم روبل کے درمیان تعلقات ایک طویل عرصے سے سرد چلے آرہے ہیں اور اس تازہ اقدام کے بعد انتخابات کے انعقاد اور دہشت گردی سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار صومالیہ کے استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

پیر کے روز صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ صدر نے ’وزیر اعظم کو معطل کرنے اور ان کے اختیارات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ بد عنوانی میں ملوث ہیں‘، اس بیان میں ان پر زمین کے قبضے کے مقدمے پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔

جواب میں وزیر اعظم روبل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ صدر ’بزور قوت وزیر اعظم کے اختیارات حاصل کرنا چاہتے ہیں جو کہ آئین اور ملک کے قانون کے خلاف ہے‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وزیر اعظم۔۔۔ ملک کو اقتدار کی پرامن منتقلی کی راہ ہموار کرنے والے انتخابات کی طرف لے جانے کے لیے اپنے قومی فرائض کی ادائیگی میں کسی رکاوٹ کو حائل نہ ہونے دینے کے لیے پرعزم ہیں‘۔

حالیہ دنوں میں دونوں افراد نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں، وزیر اعظم روبل نے الزام لگایا ہے کہ صدر فرماجو ’قابل اعتماد انتخابات‘ نہیں کروانا چاہتے تھے۔

صدر فرماجو نے جواب میں روبل پر الزام لگایا ہے کہ وہ فوج کی زیر ملکیت اراضی سے متعلق ایک اسکینڈل کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر فرماجو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’وزیراعظم نے سرکاری اراضی پر قبضے سے متعلق کیس کی تحقیقات کا رخ موڑنے کے لیے وزیر دفاع پر دباؤ ڈالا ہے‘۔

گزشتہ روز صومالیہ کے انتخابات کے حوالے سے امریکا نے بیان جاری کیا تھا کہ اسے ’اس عمل کی ساکھ کو نقصان پہچانے والی تاخیر اور بے ضابطگیوں کے حوالے سے شدید تشویش ہے‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی تعطل نے صومالیہ کے بڑے مسائل اور خاص طور پر الشباب کی شورش سے توجہ ہٹا دی ہے۔

القاعدہ کی اتحادی الشباب کو ایک دہائی قبل موغادیشو سے نکال باہر کیا گیا تھا لیکن اس نے دیہی علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا اور دارالحکومت اور دیگر جگہوں پر خطرناک حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *