Categories
Breaking news

صدر پریس کلب کا ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کو شاندار قرار دے دیا۔

Advertisement

لاہور: حکومت کی نا کام پالیسیوں کے بعد صحافیوں نے مطالبہ کیا ہے کے بلدیاتی الیکشن کروائے جائیں اور اسے 2002 کے مطابق بحال کیا جائے تا کہ عوام کو رلیف مل سکے۔

Advertisement
Advertisement
www.idgod.ph

سماجی تنظیم میڈیا فاؤنڈیشن360 ، آئی لوجیک اور پریس کلب کے زیر اہتمام بلدیاتی نظام کی اہمیت اور ضروت پر مشاورتی مزاکرہ کا کیا، جس میں پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، صدر میڈیا فاؤنڈیشن 360 مبشر بخاری، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے سیکرٹری شہزاد ملک، سینئرصحافی/ سابق سیکرٹری پریس کلب شفیق عوان، سینئر کالم نگار صلاح دین بٹ، مسیحی صحافی تنظیم کے صدر فادر عادل، سینئر صحافی شہزادہ عرفان، شہریار وڑایچ، خالد چوہدری، زاہد رفیق بھٹی، محمد تنویر، میاں عارف، عمران شیخ، شرقی ٹیپو، حسنین ترمزی اور دیگر صحافیوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر میڈیا فاؤنڈیشن کے صدر مبشربخاری نے بتایا کہ بطور صحافی ہماری زمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت، قانون، اور آئین کا تحفظ کریں۔ انھوں نے مذید کہا کہ کوئی بھی حکومت مقامی حکومتوں کے نظام کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ہم صحافیوں کی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کے ساتھ ساتھ فرض ہے کہ مقامی حکومتوں کی اہمیت کو ذیادہ سے ذیادہ اجاگر کرے تا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرے۔

بلدیاتی نظام پر ہونے والی مشاورتی مزاکرہ پر صدر پریس کلب ارشد انصاری کا کہنا تھا کہ ملک میں ترقیاتی اقوام کے ساتھ مقابلے کے لیے پاکستان کو بھی بلدیاتی نظام کے جوڑنا ہوگا۔ پرویز مشرف اگرچہ ایک ڈکٹیٹر تھے، مگر ان کی طرف سے دیا جانے والا بلدیاتی نظام پاکستان کا ایک بہترین نظام تھا۔انھوں نے حکومت کے مطالبہ کیا کہ اگر ملک کو ترقی کی شارہ پر گامزن کرنا ہے تو ریاست کو 2002 کا بلدیاتی نظام کو دوبارہ نافذ کرنا پڑے گا۔ انھوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس امر کا ایادہ کیا کے پاکستان کی صحافی برادری اس عنوان کے تحت بلدیاتی نظام کی بحالی کے لیے اپنی کوشش تیز کرے۔

صوبائی اسمبلی پنجاب پریس گیلری کمیٹی کے سیکرٹری شہزاد ملک نے بلدیاتی نفاذ پر حکومت موقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزیشتہ دو سال کی پنجاب حکومت کی کارگردگیکے پیش نظر حکومتی پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی کا واضح موقف ہے کہ بلدیاتی الیکشن کا انعقاد کسی صورت نہیں ہونا چاہے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومتی ارکان اسمبلی اس بات پربضد ہے کے اگر ان حالات میں الیکشن کروایا گیا تو حکمران جماعت کے نمائندے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اور اگر حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی جامعہ پالیسی بنائے تاکہ ان پالیسیوں کے حوالے سے آئندہ بلدیاتی الیکشن کو کامیاب بنایا جا سکے ۔

معروف کالم نگار صلاح دین بٹ نے کہا کہ میں دو دفعہ بلدیاتی نظام کا حصہ رہ چکا ہوں۔ اس لیے میں جانتا ہوں کے قوموں کی ترقی میں مقامی حکومتوں کا کردار سب سے اہم ہے۔ یہ ہی وہ پلیٹ فارم ہے جس سے ملک کو اعلی قیادتیں میسر آ تی ہیں۔ انھوں نے اس امر پر اعادہ کیا کے ہم پہلے بھی اس حوالے سے لوگوں کی ذہن سازی کرتے رہے ہیں اور آئیندہ بھی مقامی حکومتوں کا عکس نظر آئے گا۔

مشاورتی مزاکرہ کے اختتام پر پروگرام کے میزبان حسنین ترمزی نے مزاکرے میں کچھ قراردادین پیش کیں، جنہیں پروگرام کے تمام صحافیوں نے منظور کیا۔

. 1 تمام صحافی حضرات اس بات پر متفیق ہیں کہ بلدیاتی الیکشن جلد سے جلد ہوں۔

2 اقتدار کی منتقلی نچلی سطح پر آنی چاہیے۔

3 پنجاب اسمبلی میں اس حوالے سے قرارداد پیش کروانے کی کوشش کی جائے گی۔

4 تمام صحافی اس حوالے سے اپنے میڈیا ہاؤس مقامی حکومت کے حوالے سے خبر دیا کریں۔

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *