Categories
Breaking news

سینیٹ میں پسپائی کے بعد سیاسی لڑائی، پی ڈی ایم میں دراڑیں، اتحاد کو سوالیہ نشان لگ گیا

Advertisement
Advertisement

لاہور: (علی مصطفیٰ) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں سینیٹ الیکشن میں شکست کے بعد سیاسی لڑائی شروع ہو گئی ہے، ن لیگ کھل کر سامنے آگئی، مریم نواز کی جانب سے الزامات کی بھرمار کر دی گئی جبکہ بلاول بھٹو نے رد عمل دینے سے انکار کر دیا، پی ڈی ایم میں دراڑیں واضح ہو گئیں، اپوزیشن اتحاد کا مستقبل کیا ہوگا،سوالیہ نشان لگ گیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت سے مقابلہ کرنے کے لیے اپوزیشن کی 11 بڑی جماعتوں نے ستمبر 2020ء میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا تھا، طویل مشاورت کے بعد تمام جماعتوں نے اتحاد کا سربراہ امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کو چنا تھا۔ جبکہ مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو بھی عہدے تفویض کیے گئے تھے۔
پی ڈی ایم کا اتحاد بننے کے بعد ملک بھر میں اپوزیشن کی طرف سے احتجاج کیے گئے، جبکہ تمام جماعتوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں ہونے والے الیکشن مل کر لڑیں گے، نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گڑھ میں پی ڈی ایم نے ملکر الیکشن لڑا جہاں مسلم لیگ ن کے امیدوار نے فتح کو گلے لگایا تھا۔
پی ڈی ایم کا شروع سے دعویٰ ہے کہ 2018ء کے انتخابات چوری کیے گئے تھے، جبکہ مریم نواز، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان، آصف علی زرداری سمیت دیگر عہدیداران عمران خان کو سلیکٹڈ کہتے رہے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد نے 16 اکتوبر 2020ء کو گوجرانوالا، 18 اکتوبر 2020ء کو کراچی، کوئٹہ، پشاور، ملتان، لاہور سمیت دیگر جگہوں پر عوامی جلسے کیے اور حکومت کے خلاف احتجاجی ماحول بنایا۔ مریم نواز، بلاول بھٹو رداری، فضل الرحمان کی طرف سے متعدد بار کہا گیا کہ قومی اسمبلی سے استعفی دیئے جائیں گے۔
اپوزیشن اتحاد نے سینیٹ الیکشن کے دوران اسلام آباد سے متفقہ امیدوار کو منتخب کیا، سیّد یوسف رضا گیلانی نے حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو شکست سے دو چار کیا، اس کے بعد اپوزیشن اتحاد پر امید تھا کہ لانگ مارچ جلد کیا جائے گا، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے استعفوں کے معاملے پر اختلافات پیدا ہو گئے۔
لانگ مارچ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان معمولی تکرار ہوئی جس کے بعد سابق صدر نے بیان دیا کہ نواز شریف صاحب پلیز پاکستان آئیں اور لانگ مارچ کی قیادت کریں، اسی دوران مریم نواز نے جواب دیا کہ نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ پاکستان نہیں آ سکتے۔
16 مارچ 2021ء کو ہونے والے اجلاس کے بعد سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان دراڑ پڑ گئی جس کے بعد دونوں جماعتوں میں وقتاً فوقتاً معمولی تکرار بھی ہوتی رہی، چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا تھا کہ ایک اور سلیکٹڈ کو تیار کر لیا گیا ہے جس کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سلیکٹڈ نہیں اور نہ ہی ہمارے خون میں سلیکٹڈ کی روایت ہے جبکہ لاہور کی ایک جماعت کا ماضی سلیکٹڈ والا رہا ہے۔
اختلافات بڑھنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ہمارا ہو گا جبکہ پی ڈی ایم کے اجلاس کے دوران طے پایا گیا تھا کہ چیئر مین سینیٹ پیپلز پارٹی، ڈپٹی چیئر مین جمعیت علمائے اسلام ف جبکہ اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ ن کا ہو گا، تاہم حیران کن طور پر اپوزیشن اتحاد سینیٹ الیکشن ہار گیا جس کے بعد پیپلز پارٹی کی طرف سے کہا گیا کہ اپوزیشن لیڈر ہمارا حق ہے، جبکہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بیان دیئے گئے۔
گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی سیٹ لے اُڑی جس کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک مرتبہ پھر لفظی جملوں کا تبادلہ ہوا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے چھوٹے سے عہدے کے لیے باپ (بلوچستان عوامی پارٹی) سے ووٹ لے لیے۔ پہلی مرتبہ دیکھا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کو حکومتی ارکان نے سلیکٹ کیا۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے قائدین کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر آپ کو عہدہ چاہیے تھا تو مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے مانگ لیتے۔ نواز شریف نے آپ (پیپلز پارٹی) کو یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بننے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ صف بندی ہونے سے واضح ہوگیا کہ ایک طرف جمہوریت کے لیے قربانی دینے والے کھڑے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے بلا خوف و خطر جدوجہد کررہے ہیں اور دوسری طرف وہ جماعت کھڑی ہے جو چھوٹے سے عہدے یا فائدے کے لیے اصولوں کو قربان کرکے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ زرداری سب پر بھاری والی بات شرمندگی ہے۔
اس پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی( پی پی پی) کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دوستوں سے درخواست ہے ذرا سا پانی پی لیں، حوصلہ رکھیں، مریم نواز سمیت دیگر لوگ پیپلزپارٹی کے خلاف بیان بازی کررہےہیں، مسلم لیگ ن سے بالکل توقع نہیں تھی کہ سینیٹ میں امیدوارکی ہار کے بعد خان صاحب جیسا ردعمل دے۔ سلیکٹڈ کالفظ میں نےدیاہےتومیں جانتاہوں وہ کس پراستعمال ہونا بنتا ہےکس پرنہیں۔
کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ نہیں جانتاایک جماعت اتناسخت فیصلہ کیسےلےرہی ہے، ہماری جماعت کےکچھ اراکین کومحسوس ہواکہ پیپلزپارٹی کودیوارسےلگایاجارہاہے۔ ن لیگی دوستوں سےدرخواست کرتاہوں کہ حوصلہ رکھیں،نہیں چاہتےکہ پی ڈی ایم کوکوئی نقصان ہو، پارلیمنٹ کےاندراورباہرحکومت کوٹف ٹائم دیں گے۔
چیئر مین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ کہنےکوبہت کچھ ہے لیکن یوسف رضاگیلانی کاسینیٹ میں اپوزیشن لیڈرکاعہدہ سبنھالناخوش آئندہے۔ حکومتی بنچوں سے اٹھ کر3آزاداراکین کااپوزیشن بنچوں پربیٹھنے کے فیصلے کو ویلکم کرتا ہوں۔ 3 بلوچستان سے تعلق رکھنے والے آزاد اراکین کا دلاور خان کے گروپ سے تعلق ہے
انہوں نے کہا کہ بی بی شہید قتل کیس میں اعظم نذیرتارڑ وکیل تھا، میں کیسے انکی حمایت کرتا؟ مجھے فون ہی کر لیتے شائد نام کے حوالے سے اتفاق کرلیتے، پنجاب میں وزیراعلیٰ کا حق (ن) لیگ حمزہ شہبازکا بنتا ہے۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں حکومتی بینچوں سے آنےوالوں کو ویلکم کریں گے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنانا ہماری جماعت کا حق تھا، بعض رہنماوَں نے محسوس کیاکہ پیپلزپارٹی دیوار سے لگایاجارہاہے۔ سینیٹ کی تاریخ ہے جس کی اپوزیشن میں اکثریت ہوتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن سےبالکل توقع نہیں تھی کہ سینیٹ میں امیدوارکی ہار کے بعد خان صاحب جیسا ردعمل دے۔ مریم نواز پر تنقید کی نہ کروں گا، ان کو ن لیگ میں اہم سپیس ملنا پنجاب کی قیادت کیلئے بھی اچھا ہے۔ پارلیمان میں شکست دلوانے والی بات جو نہیں مان رہے تھے چاہیے تھا وہ پارلیمان میں حکومتی امیدوارکوشکست دلوانے کے بعد اس پر زیادہ غورکرتے۔ سلیکٹڈ کالفظ میں نےدیاہےتومیں جانتاہوں وہ کس پراستعمال ہونابنتاہےکس پرنہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ کا لفظ میں نے دیا ہے تو میں جانتا ہوں وہ کس پر استعمال ہونا بنتا ہے کس پرنہیں۔ میں سمجھتاہوں اپوزیشن کاکوئی نقصان نہیں ہوا۔ الزامات کاجواب دیناپسندنہیں کروں گا،پی ڈی ایم کونقصان نہیں پہنچاناچاہتا۔ پی ڈی ایم کی میں نے بنیادرکھی،چاہوں گاپی ڈی ایم اتحادبرقراررہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی میں ن لیگ کاامیدوارانتہائی متنازعہ تھا۔ نہیں جانتا ایک جماعت اتنا سخت فیصلہ کیسے لے رہی ہے، ہماری جماعت کے کچھ اراکین کو محسوس ہوا کہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مطالبہ کرتے ہیں جیسےندیم بابر کو نکالا گیا وزیراعظم سمیت تمام وزرا کو مستعفیٰ ہوناچاہیے۔ پاکستان کی افراط زرکی شرح بنگلا دیش اورافغانستان سے زیادہ ہے، حکومت نےمسلسل غلط پالیسیوں کی وجہ سےعوام کونقصان پہنچایا۔ پاکستان کی معیشت کی شرح منفی میں نہ ہوناتاریخی ناکامی ہے۔ سٹیٹ بینک سےمتعلق آرڈیننس کوہرقانونی فورم پرچیلنج کریں گے۔ حکومت کوفوراً سٹیٹ بینک سےمتعلق آرڈیننس کوواپس لیناچاہیے۔ ہم بھی چاہتےہیں سٹیٹ بینک آف پاکستان خودمختارادارہ بنے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *