Categories
Breaking news

سیاسی پناہ کی درخواستوں سے نمٹنے کیلئے نیا منصوبہ متعارف کرانے کا اعلان، اسائلم سسٹم ٹوٹ پھوٹ چکا ہے، وزیرداخلہ

Advertisement
Advertisement

لندن (سعید نیازی) برطانیہ کی وزیرداخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے کہ برطانیہ کا اسائلم سسٹم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔حکومت سیاسی پناہ گزینوں کی درخواستوں سے نمٹنے کیلئے نیا منصوبہ متعارف کرائے گی جس کے تحت پہلی مرتبہ برطانیہ میں سیاسی پناہ طلب کرنے والے کے کیس کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ وہ ملک میں داخل کس طرح ہوئے ہیں۔ ہوم سیکرٹری نے کہا کہ نیا نظام منصفانہ ہوگا اور کریمنل گینگز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اسائلم کے حوالے سے مہم چلانے والوں کا کہنا ہے نیا نظام غیر منصفانہ ہوگا اور اس سے انسانی اسمگلنگ کے مقصد سے نمٹنے میں مدد نہیں ملے گی۔ حکومت کے منصوبے کے مطابق ایسے افراد جو غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہوکر سیاسی پناہ طلب کرینگے انہیں وہ استحقاق حاصل نہیں ہوگا کہ جو کہ قانونی طور پر برطانیہ آکر پناہ طلب کرنے والوں کو ہوگا۔ مارچ 2020ء میں ختم ہونے والے سال کے دوران برطانیہ میں 35,099 افراد نے پناہ کی درخواست دی جس میں اکثریت کا تعلق ایران، البانیہ اور عراق سے تھا۔ ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سیاسی پناہ کا نظام ازسرنو مرتب ہونے والا ہے، غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والوں کے سبب لوگوں کی زندگی خطرے سے دوچار ہوتی ہے اور جرائم بڑھتے ہیں۔ نئے اقدامات سے حقدار افراد کو محفوظ اور قانونی طریقے سے برطانیہ میں قیام کی اجازت ملے گی۔ اس وقت بوگس کلیمز کی بھرمار ہے اور ایسے افراد جن کو اس ملک میں نہیں ہونا چاہئے انہیں نکالنے کیلئے قانونی پیچیدگیاں حائل ہیں۔ہم نظام کو مکمل کارآمد بنانے کیلئے اصلاحات کرینگے اور برطانیہ میں صرف ان افراد کو پناہ دی جائے گی جنہیں واقعی اپنے ملک میں نامناسب حالات کا سامنا ہوگا۔ خاص طور پر خواتین، بچے اور ایسے خاندان جو دنیا بھر میں نامساعد حالات میں غلیظ کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر انسانی عمل یہ ہے کہ لوگوں کو اس بات کی اجازت دینا کہ وہ غیر قانونی طور پر انسانوں کی اسمگلنگ کریں، لوگوں کو لاریوں میں چھپا کر یا چھوٹی کشتیوں میں سمندر عبور کرانے کی کوشش میں ہلاک کردیں۔انہوں نے کہا کہ یورپ آنے والے افراد کو وہیں پر سیاسی پناہ طلب کرنی چاہئے بجائے اس کے کہ وہ برطانیہ آکر پناہ طلب کریں ان ممالک کو بھی اس طریقہ کار کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ ممالک وار زون نہیں ہیں، بلکہ محفوظ ملک ہیں۔ لیبرپارٹی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ جرائم پیشہ گروہوں کو اس منصوبے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جبکہ ریفیوج گروپس نے کہا کہ یہ تجاویز غیر حقیقی اور غیر منصفانہ ہیں۔ حکومت نئے امیگریشن بل میں اس حوالے سے مزید تفصیلات بیان کرے گی۔ حکومت کی اصلاحات کو گزشتہ دھائیوں میں کی جانے والی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔ ریفیوجی کونسل کے چیف ایگزیکٹیو اینور سلیمان نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ کوئی کس طرح برطانیہ میں داخل ہوا حکومت مستحق اور غیر مستحق پناہ گزینوں میں تمیز کرے گی جو کہ غیر منصفانہ ہوگا۔ برٹش ریڈ کراس کے چیف ایگزیکٹیو مائیک ایڈ منسن نے کہا کہ حکومت کی تجاویز سے غیر منصفانہ دوہرا معیار قائم ہوگااورصرف ملک میں داخلے کی بنیاد پر کیس کے فیصلے کرنا غیر انسانی فعل ہوگا۔ ہوم آفس کی اس ضمن میں تجاویز کے مطابق پہلی مرتبہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کیا سیاسی پناہ طلب کرنے والا ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہے اور کیا وہ محفوظ ملک سے آیا ہے جیسا کہ اگر وہ فرانس سے آیا ہے تو اس بات کا اثر اس کے کیس پر پڑے گا۔ جن افراد کی درخواستیں مسترد ہوں گی انہیں فوری طور پر ملک سے نکالا جائے گا اور اصلاحات کے ذریعے اپیلوں کے طریقہ کار کو تیز کیا جائے گا۔ آبائی ممالک میں نامساعد حالات کا شکار افراد جو قانونی طور پر ملک میں داخل ہوں گے مثلاً شام یا ایران وغیرہ سے ان کو مستقل قیام کی اجازت دیدی جائے گی۔ نئے منصوبے کے مطابق ایسے افراد جو جرائم پیشہ گروہوں کو رقم د ے کربرطانیہ میں داخل ہوںگے انہیں صرف عارضی قیام کی اجازت دی جائے گی اور برطانیہ سے نکالنے کے حوالے سے ان کے کیس کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔ ایسے افراد جو بالغ ہیں لیکن خود کو بچہ ظاہر کرکے اسائلم لینے کی کوشش کرتے ہیں ان کی عمر کا تعین کیا جائے گا۔ ایسے افراد جو مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہوںگے اورانہیں برطانیہ بدر کیا جا چکا ہوگا اگر وہ دوبارہ ملک میں داخل ہوںگے تو 5 برس تک جیل کی سزا دی جائے گی جو کہ اس وقت صرف 6 ماہ ہے جبکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ صرف گزشتہ برس فرانس سے چھوٹی کشتیوں میں سوار ہوکر سمندر کے راستے 8 ہزار سے زائد افراد برطانیہ میں داخل ہوئے ہیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *