Categories
Breaking news

سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر کراچی کے لیے سنجیدگی سے کوششیں ہورہی ہیں، گورنر سندھ عمران اسمٰعیل

Advertisement
Advertisement

گورنر سندھ عمران اسمٰعیلگورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا ہے کہ وفاق صوبہ سندھ کی مدد کرنا چاہتا ہے اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اس کے لیے سنجیدگی سے کوششیں ہورہی ہیں جو اس سے پہلے کبھی سندھ کے لیے نہیں ہوئیں۔

اس موقع پر گورنر سندھ نے کہا کہ بارش اور اس کے بعد سیلابی صورتحال سے جو تباہی ہوئی وہ پورے سندھ میں یکساں ہیں، خاص طور پر اندرون سندھ میں کراچی سے زیادہ تباہی ہوئی ہے لیکن ہماری میڈیا کا مرکز کراچی اس لیے ہے کیونکہ یہ بڑا شہر ہے، ملک کا معاشی حب ہے اور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور کراچی بڑھتا ہے تو پاکستان بڑھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں نالوں پر قبضے ہوگئے ہیں ظاہر سی بات ہے کسی نے یہ قبضے کرائے ہوں گے، نالوں کے اوپر زمینیں الاٹ ہوئی ظاہر ہے وہ بھی کسی نے الاٹ کی ہوں گی، نالوں کی صفائی نہیں ہوتی اس کا بھی کوئی ذمہ دار ہوگا، اس کے علاوہ وہاں سالڈ ویسٹ پھینکا جاتا ہے جس کا ذمہ دار بھی کوئی ہوگا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ اب اس ذمہ داری کا تعین کیا جارہا ہے، ہم کوئی نئی چیز نہیں کر رہے، ہمیں معلوم ہے کہ یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، سب اختیارات ان کے پاس ہیں وہ اچھے اور برے کے ذمہ دار ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت معاملات یہ ہیں کہ وفاق صوبہ سندھ کی مدد کرنا چاہتا ہے، چاہے یہاں پیسہ لگایا جائے یا کوئی نیا نظام متعارف کروایا جائے مل کر کام کیا جائے اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھا جائے اور اس سلسلے میں بہت سنجیدگی سے کوششیں ہورہی ہیں جو اس سے پہلے کبھی سندھ کے لیے نہیں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کراچی کے لیے اتنی سنجیدہ کوششیں شاید پہلے کبھی نہیں دیکھیں، وزیراعظم نے گزشتہ روز جو اجلاس بلایا تھا وہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا جس میں کراچی 'ٹرانسفارمیشن پلان' بنایا گیا ہے اور اس میں بہت زبردست منصوبے کے ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا ہے، جس پر جب تمام اسٹیک ہولڈرز اعتماد میں آجائیں گے تو وزیراعظم خود ایک 2 روز میں کراچی آکر خود یہ پلان سامنے لائیں گے جس سے اندازہ ہوگا کہ واقعی کراچی کو اس پلان کی ضرورت تھی۔

بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد کراچی کے ایڈمنسٹریٹری کی تعیناتی سے متعلق گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ لگایا جائے گا، غیرجانبدار ایڈمنسٹریٹر ہوگا جو سب کو قابل قبول ہوگا اور ابھی اس طرح کے لوگ ناپید نہیں ہوئے ہیں اور انہیں کے ناموں پر غور ہورہا ہے اور بات چیت ہورہی ہے اور اتفاق رائے کے ساتھ ایڈمنسٹریٹر کو لگا کر اسے اختیارات دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پورا سندھ ایک طرف، سندھ سے فوکس کراچی اور پھر سی ڈیفنس اور سی بی سی کی طرف ہے کیونکہ پہلی مرتبہ پیسے والے شخص اور علاقے متاثر ہوئے اور اندازہ ہوا ہے کہ جب گھر میں پانی آتا ہے تو کیا تباہی اور بربادی ہوتی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ڈیفنس اور سی بی سی والوں کا احتجاج کرنے کا حق ہے کیونکہ وہاں 4 دن سے لائٹ نہیں تھی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جو بارش ہوئی یہ ایک انہونی چیز تھی یہ عام بارش نہیں تھی بلکہ قدرتی آفت کے طور پر نازل ہوئی تھی یہ تباہی کے حساب سے دوسرے درجے کی بارش تھی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی شہر اس قدر بارش پر اپنی منصوبہ بندی نہیں کرتا کوئی شہر 400 ملی میٹر بارش کی پلاننگ نہیں ہوتی یہ ایک غیر متوقع بارش تھی۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں اگر سب چیز ٹھیک ہوتی تب بھی بارش سے اتنی تباہی آنا تھی، شہر قائد ایک گھنٹے کی بارش میں ڈوب جاتا ہے تاہم میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم ایک بار مل کر جان، مال کے ساتھ زور لگانا چاہتے ہیں اور اس کراچی کو ٹھیک کرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کراچی میں 3 فلائی اوورز بنائے، گرین لائنز بنائے، نشترروڈ اور منگھوپیر روڈ بنائے اور 50 فائر ٹینڈرز آئے، یہ ذمہ اگر سندھ حکومت کا ہے تو پھر مجھ سے سوال کیوں کر رہے ہیں کہ وفاق نے کیا کیا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق جو کچھ بھی کر رہا وہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت کر رہا ، صوبائی حکومت کے کسی نمائندے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ وفاق سے پوچھے کہ آپ کیا کر رہے ہیں کیونکہ یہ کام آپ کا ہے اور آپ کو پیسے مل گئے ہیں۔

دوران گفتگو گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جو کچھ کر رہے ہیں وہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت کر رہے ہیں لیکن یہ ان کی ایما ہے کہ وہ کہاں کام کرنا چاہتے ہیں، تاہم ایک بات واضح کردوں کہ یہ مل کر زور لگانے کا وقت ہے جو وزیراعظم کر رہے ہیں اور ایک بہت بڑے منصوبے کے ساتھ آرہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں گورنر سندھ نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اکراچی کے معاملے پر جو ایک کمیٹی بنی ہے جس میں وزیراعلیٰ سندھ، ناصر شاہ اور سعید غنی جبکہ اسد عمر، امین الحق اور علی زیدی شامل ہیں، اس کمیٹی میں ایڈمنسٹریٹر کراچی کے حوالے سے بات ہورہی ہے لیکن مجھ سے مشاورت نہیں ہورہی لیکن یہ مشاورت ہورہی کہ کوئی ایسا نام آجائے جس پر سب متفق ہوں تاہم ایڈمنسٹریٹر لگانے کا استحقاق حکومت سندھ کا ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *