Categories
Breaking news

سعودی حکومت کی اکاؤنٹنگ کے شعبے میں سعودی نوجوانوں کی تعیناتی سے متعلق ہدایات جاری

Advertisement

سعودی ملازمین

سعودی حکومت نے اکاؤنٹنگ کے شعبے میں سعودی نوجوانوں کی تعیناتی سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اداروں میں سعودیوں کا تناسب30 فیصد ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے سعودی وزیرافرادی قوت وسماجی بہبود آبادی انجینئراحمد سلمان الراجحی نے کہا ہے کہ سعودائزیشن کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے اکاؤنٹنگ کے شعبے میں 30 فیصد سعودائزیشن کی جائے گی۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر افرادی قوت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے ادارے جہاں اکاؤنٹ مرتب کرنے والے کارکنوں کی تعداد5 یا اس سے زائد ہے وہاں سعودیوں کا تناسب30 فیصد ہونا چاہئے۔

اکاؤنٹس کے شعبے میں متعین کیے جانے والے سعودی کارکنوں کی کم از کم تنخواہ کا تعین کرتے ہوئے وزیر افرادی قوت کا کہنا تھا کہ گریجوٹ سعودی کو کم از کم 6 ہزار جبکہ ڈپلومہ ہولڈرز کو 4 ہزار 500 ریال سے کم تنخواہ پر تعینات نہیں کیا جاسکتا۔

Advertisement

چھوٹے اداروں میں اکاؤنٹنگ کے شعبے میں سعودیوں کی تعیناتی کے قانون کے حوالے سے وزارت افرادی قوت کا کہنا تھا کہ نئے جاری کیے جانے والے قواعد سے نجی شعبے میں مزید 9 ہزار 800 سعودیوں کوروزگار کےمواقع میسر آئیں گے جن پر غیر ملکی کام کررہے ہیں۔

وزارت افرادی قوت کی جانب سے پہلے ہی بڑے اداروں میں اکاؤنٹنگ میں اہم ذمہ داریاں جن میں چیف اکاؤنٹس آفیسر، ڈائریکٹر ٹیکس، فنانس ڈائریکٹر ، انٹرنل آڈیٹر اور کیشیئرز شامل ہیں کو سعودیوں کے لیے مخصوص کیا ہوا ہے۔

واضح رہے اکاؤنٹس کے شعبے میں سعودائزیشن کا عمل کافی عرصہ سے مرحلہ وار جاری ہے۔ بڑے اداروں میں اکاؤنٹس کے شعبے میں غیر ملکی کارکنوں کو تعینات نہیں کیاجاسکتا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *