Categories
Breaking news

سعودی حکام کا خواتین کے لئے بڑا قدم، حرمین شریفین میں اہم ذمہ داریاں سونپ دیں

Advertisement
Advertisement

سعودی حکام کا خواتین کے لئے بڑا قدم، حرمین شریفین میں اہم  ذمہ داریاں سونپ دیںسعودی عرب کے شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں واقع اسلام کی دو سب سے مقدس مسجدوں (حرمین شریفین) کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ادارے میں دس سعودی خواتین کو سینیئر عہدوں پر فائز کر دیا گیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ان تعیناتیوں کا اعلان کرتے ہوئے مقدس مساجد کے انتظامی امور کے ادارے (جنرل پریزیڈنسی فار دی افیئرز آف دی ٹو ہولی ماسکس) کا کہنا تھا کہ ’خواتین کو قائدانہ منصب سنبھالنے کے لیے بااختیار بنانا ایک اہم موضوع ہے جو کہ ترقی اور معیشت کا عکاس ہے۔‘

ادارے کے مطابق جن خواتین کا تقرر کیا گیا ہے وہ (سعودی عرب کی) دانشمندانہ قیادت کی تمناؤں اور خواہشات کے حصول کے لیے تخلیقی اور اعلی معیار کے عمل کو سپورٹ کریں گی۔

مقدس مساجد کی نگرانی کے ادارے کی اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری برائے سروس و انتظامی امور کمیلیا الدادی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ان تقرریوں میں دو مقدس مساجد میں مہیا کی جانے والی تمام خدمات اور مہارتوں کا احاطہ کیا گیا ہے چاہے وہ انجینیئرنگ، رہنمائی، انتظامی امور سے متعلق شعبے ہوں یا سپروائزی سروسز سے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انھیں (خواتین کو) مقدس کعبہ کے کنگ عبدالعزیز کمپلیکس، مقدس مساجد کی بلڈنگ گیلری، لائبریری اور دیگر شعبہ جات میں شامل کیا گیا ہے اور اس کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور اور ان کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو حجاج کرام کی خدمت میں صرف کرنا ہے۔‘

کنگ عبدل العزیز کمپلیکس کے نائب صدر عبدل حامد ال مالکی کا کہنا ہے کہ مسجد الحرام میں تشریف لانے والوں میں سے آدھی سے زیادہ تعداد خواتین پر مشتمل ہوتی ہے اور اس صورتحال میں وہاں سعودی خواتین لیڈرز کی موجودگی سروس کے معیار کو یقینی بنائے گی

کنگ عبدل العزیز کمپلیکس کے نائب صدر اور مسجد الحرام کے اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری عبدل حامد ال مالکی کا کہنا ہے کہ مسجد الحرام میں تشریف لانے والوں میں سے آدھی سے زیادہ تعداد خواتین پر مشتمل ہوتی ہے اور اس صورتحال میں وہاں سعودی خواتین لیڈرز کی موجودگی سروس کے معیار کی کوالٹی کو یقینی بنائے گی۔

انھوں نے کہا کہ مقدس مساجد کے انتظامی امور کا نگراں ادارہ نوجوان مرد اور خواتین پر انتہائی توجہ دیتا ہے تاکہ انھیں نوجوانی کی عمر میں بااختیار لیڈر بنایا جا سکے۔

ال مالکی کا مزید کہنا تھا نگراں ادارے میں خواتین کے کردار کو فروغ دینا اور ملک میں ترقی کی راہنمائی کے لیے اُن کی حمایت کرنا سعودی عرب کے ویژن 2030 کے اصلاحاتی پروگرام کا ایک حصہ ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *