Categories
Breaking news

سراج درانی کا 2 دن کا راہداری ریمانڈ منظور

سراج درانی کا 2 دن کا راہداری ریمانڈ منظور

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے گزشتہ روز نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کا 2 دن کا راہداری ریمانڈ منظور کر لیا۔

اس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے سماعت کی۔

نیب نے آغا سراج درانی کو گرفتار کر لیا

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی عدالتِ عظمیٰ کے احاطے سے باہر آ گئے، جس کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کر لیا۔

دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے آغا سراج درانی کے 2 دن کے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی۔

نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ آغا سراج درانی کے وارنٹِ گرفتاری ہیں، انہیں پہلی دستیاب پرواز سے کراچی منتقل کیا جائے گا۔

جج محمد بشیر نے آغا سراج درانی سے استفسار کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

آغا سراج درانی نے جواب دیا کہ انہیں کہیں کہ مجھے جلدی کراچی بھجوا دیں۔

یہ بھی پڑھیے

احتساب عدالت اسلام آباد نے آغا سراج درانی کا 2 دن کا راہداری ریمانڈ منظور کر لیا۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ پیر کو آغا سراج درانی کو کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کر دیں گے۔

واضح رہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گزشتہ روز سپریم کورٹ کے باہر سے نیب نے گرفتار کیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آغا سراج درانی کو سرینڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔

’’بس جہاز میں آنے جانے کا شوق ہے‘‘

آغا سراج درانی نے اسلام آباد کی احتساب عدالت سے واپسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد سے گرفتار ہونے کے حوالے سے کیئے گئے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ بس جہاز میں آنے جانے کا شوق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر گزشتہ روز گرفتاری دی، 2 دن کا راہداری ریمانڈ ہوا ہے۔

ایک صحافی نے اسپیکر سندھ اسمبلی سے سوال کیا کہ آغا صاحب! آپ کراچی میں کیوں گرفتار نہیں ہوتے؟ ہمیشہ اسلام آباد سے ہوتے ہیں؟

جس پر آغا سراج درانی نے جواب دیا کہ بس جہاز میں آنے جانے کا شوق ہے۔

صحافی نے ان سے پوچھا کہ آپ پہلے بھی گرفتار ہو کر یہاں پیش ہوئے تھے؟

آغا سراج درانی نے جواب دیا کہ یہ اب سے تو نہیں ہو رہا، ہمارے ساتھ 30 سال سے یہی سلوک ہو رہا ہے، 2 سال سے تو کیس چل رہا ہے، پھر ٹرائل کورٹ جائیں گے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.