Categories
Breaking news

سانحہ آرمی پبلک اسکول میں زندہ بچ جانے والے احمد نواز کا دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب

Advertisement
Advertisement

’میرا آکسفورڈ میں داخلہ دہشت گردوں کے منہ پر ایک تھپڑ ہسانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں دہشت گردوں کے حملے میں زندہ بچ جانے والے احمد نواز کو دنیا کی انتہائی معتبر اور تاریخ کی قدیم ترین یونیورسٹی آکسفورڈ میں داخلہ مل گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے احمد نواز نے کہا کہ ’آج مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے جہاں اب میں مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھوں‌ گا۔‘

19 سالہ احمد نواز نے سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنی ایک آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹی شرٹ پہنے تصویر شیئر کرتے ہوئے اس معتبر ادارے میں تعلیم پانے کا موقع ملنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

احمد نواز نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’پانچ برس قبل دہشت گردوں نے مجھے نشانہ بنایا اور میرے اسکول پر اس وجہ سے حملہ کیا کہ ہم تعلیم حاصل کرنے سے باز آجائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میرا آکسفورڈ میں داخلہ دہشت گردوں کے منہ پر ایک تھپڑ ہے۔‘

19 سالہ طالب علم نے اپنے ٹوئٹ میں مشہور مقولہ ’جہاں چاہ ہوتی ہے، وہاں راہ ہوتی ہے‘ بھی لکھا۔

انہوں نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ وہ آکسفورڈ میں تھیولوجی اور فلاسفی کے مضامین پڑھیں گے۔

واضح رہے کہ 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے وقت احمد نواز کی عمر 14 برس تھی۔

اسکول پر حملے کے وقت احمد اپنے آپ کو مردہ ہونے کا بہانہ کرکے جان بچانے میں کامیاب ہوئے تھے جب کہ انہوں نے اپنی استاد کو آگ لگانے کے خوفناک واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

احمد کے بازو پر متعدد چوٹیں آئی تھیں جس کے بعد ان کا خصوصی طور پر برمنگھم کے ملکہ الزبتھ اسپتال میں علاج ہوا تھا۔

برطانوی ڈاکٹرز نے احمد نواز کا علاج کیا جس کے بعد وہ صحت مند زندگی کی طرف لوٹے اور پھر لندن میں ہی تعلیم کا آغاز کیا۔

احمد نواز کو برطانیہ کے شہزادہ ولیم سے کنگسٹن پیلس ’گلوبل لیگیسی ایوارڈ 2019‘ سے نوازا جا چکا ہے۔

دو برس قبل نومبر میں احمد نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا تھا کہ انھیں کولمبو میں ساؤتھ ایشیا یوتھ سمٹ میں ایشین انسپریشن ایوارڈ سے نوازا جائے گا‘۔

کولمبو میں ساؤتھ ایشیا یوتھ سمٹ میں ایشین انسپریشن ایوارڈ سے بھی احمد نواز کو نوازا جاچکا ہے، امن کے فروغ اور نوجوانوں کوبا اختیار بنانے پر احمد کو اس اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *