Categories
Breaking news

سابق فوجیوں کے پراسرار قتل پر افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج

سابق فوجیوں کے پراسرار قتل پر افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاجافغانستان کے دارالحکومت کابل میں خواتین مظاہرین نے امریکا کی حمایت یافتہ سابق حکومت کے فوجیوں کے قتل کا الزام حکمران طالبان پر عائد کرتے ہوئے مارچ کیا اور 'انصاف' کے نعرے لگائے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کابل کے وسط میں مسجد کے قریب تقریباً 30 خواتین جمع ہوئیں اور ‘انصاف، انصاف’ کے نعرے لگاتےہوئے مارچ کیا تاہم انہیں طالبان فورسز نے روک لیا۔

سوشل میڈیا کےمطابق طالبان نے صحافیوں کو بھی مارچ کی کوریج سے روکا، جو ‘پراسرار طور پر نوجوانوں اور خاص کر ملک کے سابق فوجیوں کے قتل’ کے خلاف ہورہا تھا۔

طالبان فورسز نے صحافیوں کے ایک گروپ کو مختصر وقت کے لیے روکا اور چند فوٹوگرافر سے ان کےآلات قبضے میں لے کر ان کے کیمروں سے تصاویر ڈیلیٹ کرنے کے بعد واپس کردیا۔

افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد احتجاج پر پابندی عائد ہے اور مظاہروں کو روکنے کے لیے مسلسل مداخلت کی جاتی ہے۔

کابل میں مذکورہ احتجاج اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے طالبان کے اقتدار میں 100 سے زائد ماورائے قانون قتل کی رپورٹ کے چند ہفتوں بعد ہوا ہے۔

مظاہرے میں شریک نیئرہ کوہستانی کا کہنا تھا کہ ‘میں دنیا کو بتانا چاہتی ہوں کہ طالبان سے کہیں وہ لوگوں کو قتل کرنا بند کریں، ہم انصاف اور انسانی حقوق چاہتے ہیں’۔

ایک اور خاتون لائلہ بسام نے بیان پڑھ کرسنایا، جس میں مظاہرین نے طالبان سے ‘اپنی جرائم کی مشین روکنے’ کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں اور گزشتہ حکومت کے سرکاری ملازمین ‘براہ راست خطرے میں’ ہیں اور طالبان اگست میں اعلان کردہ عام معافی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے طالبان کی حکومت میں خواتین پر عائد پابندیوں کے خلاف بھی نعرے لگائے، اس سے قبل حکومت نے خواتین کو قریبی رشتہ دار کے بغیر طویل سفر نہ کرنے کے احکامات جاری کردیے تھے۔

نیئرہ کوہستانی نے کہا کہ ‘خواتین کے حقوق بنیادی انسانی حقوق ہیں، ہمیں اپنے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے’۔

آن لائن سامنے آنے والی ویڈیو میں دارالحکومت کابل کے ایک اور مقام پر خواتین کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جہاں وہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی نائب سربراہ ندیٰ الناشف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 15 اگست کو طالبان کے قبضے کے بعد طالبان کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے باوجود لوگوں کو قتل کیے جانا پریشان کن ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کونسل کو بتایا تھا کہ ’اگست سے نومبر کے دوران ہمیں سابق افغان سیکیورٹی فورسز اور سابق حکومت کے ساتھ کام کرنے والے 100 سے زائد افراد کے قتل کے قابل اعتبار الزامات موصول ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’ان میں سے تقریباً 72 ہلاکتوں میں طالبان کا نام لیا جارہا ہے، کئی واقعات میں تو لاشوں کو سرعام دکھایا بھی گیا جس سے آبادی کا بڑا حصہ خوف میں مبتلا ہے‘۔

دوسری جانب طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبد القہار بلخی نے واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت عام معافی پر اب بھی قائم ہے۔

انہوں نے سابق انتظامیہ کے اہلکاروں کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدامات کی بھی نفی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جو بھی عام معافی کی خلاف ورزی کرے گا اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.