Categories
Breaking news

زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

Advertisement
Advertisement

سپریم کورٹ آف پاکستانسپریم کورٹ نے زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق کیس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاوں اور نہروں کے اطراف میں جنگلات کے لیے شجرکاری کا حکم دے دیا، عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاق اور سندھ سے ڈیم کی تعمیر کی ٹائم لائن بھی طلب کرلی۔

سپریم کورٹ میں زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ دریاؤں کے ساتھ کچہ کی زمین پر کاشت کاری نہیں ہوسکتی۔ دریاوں نہروں کے اطراف میں درختوں کی کلیاں نہ لگائی جائیں۔ کم ازکم چھ فٹ کے درخت لگا کر اسکو محفوظ بنائیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے پانی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، دریاوں اور نہروں کیساتھ درخت لگانے کی کوئی اسکیم نہیں ہے؟ درخت لگانے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ ہماری حکومت نے بلین ٹری سونامی کا منصوبہ شروع کیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ یہاں دریاوں اور نہروں کے اطراف میں جنگلات کی بات ہو رہی ہے۔ شیشم کے درخت پنجاب میں ختم ہو گئے ہیں۔ نئی گج ڈیم کی تعمیر کا کیا بنا؟ جوائینٹ سیکرٹری پانی بجلی نے جواب دیا کہ نئی گج ڈیم کے پی سی ون کی ایکنک نے ابھی تک منظوری نہیں دی۔

عدالت نے کہا کہ نئی گج ڈیم پانی کو محفوظ بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وفاق اور سندھ نئی گج ڈیم کی تعمیر پر رضامند ہیں۔ عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی اور وفاق اور سندھ سے نئی گج ڈیم کی تعمیر کی ٹائم لائن طلب کرلی۔ عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاوں اور نہروں کے اطراف میں جنگلات کے لیے شجرکاری کا حکم دے دیا۔

عدالت نے دریاوں کے اطراف میں کچہ کی زمین پر کاشت کاری سے بھی روک دیا اور شجرکاری پر تمام حکومتوں سے ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے تمام صوبوں کو دریائوں اور نہروں کے اطراف درخت لگا کر تصاویر بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *