Categories
Breaking news

زرداری کا فضل الرحمٰن سے رابطہ، بینظیر بھٹو کی برسی پر جلسے میں شرکت کی دعوت

Advertisement

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو 27 دسمبر کو سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر لاڑکانہ میں ہونے والے جلسے میں شرکت کی دعوت دے دی۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سابق صدر نے مولانا فضل الرحمٰن کو ٹیلی فون کال کی۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن 11 اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر بھی ہیں۔

ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جاری حکومت مخالف احتجاج پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر آصف علی زرداری نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو دعوت دی کہ وہ 27 دسمبر کو بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش لاڑکانہ میں ہونے والے جلسے میں شرکت کریں۔

صدر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے بھی اہم بات چیت
صدر آصف علی زرداری کی مولانا فضل الرحمان کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے یوم شہادت پر گڑھی خدا بخش میں ہونے والے جلسے میں شرکت کی دعوت

— PPP (@MediaCellPPP) December 24, 2020

واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی بینظیر بھٹو کی شہادت کے سلسلے میں 27 دسمبر کو گڑھی خدابخش میں جلسے کا انعقاد کر رہی ہے۔

اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے پی ٹی ایم رہنماؤں کو جلسے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

Advertisement

پیپلزپارٹی کی سندھ قیادت کو گڑھی خدا بخش میں 27 دسمبر کے جلسے میں پی ٹی ایم کے تمام رہنماؤں کے آمد کی توقع کر رہی ہے۔

گڑھی خدابخش سندھ کے شہر لاڑکانہ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں بینظیر بھٹو کا مزار ہے۔

ادھر پیپلزپارٹی سندھ کے صد نثار احمد کھوڑو کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی صدر مریم نواز اور دیگر پی ڈی ایم رہنماؤں کی جلسے میں آمد متوقع ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ بہت بڑا ثابت ہوگا اور ہم لوگوں کی بڑی تعداد کی توقع کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب اپوزیشن اتحاد حکومت مخالف تحریک کے دوسرے مرحلے میں آگے بڑھ رہا ہے۔

پی ڈی ایم کا مطالبہ ہے کہ تحریک اںصاف حکومت 31 جنوری تک اقتدار چھوڑ دے یا اپوزیشن کی تیز تحریک کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے جس میں وفاقی دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفے شامل ہیں۔

قبل ازیں گزشتہ روز پی ٹی ایم نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھیجنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو خراب کارکرگی اور عوام مخالف پالیسیز پر ہدف تنقید بنایا تھا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *