Categories
Breaking news

ریڈلسٹ اور تارکین وطن..تحریر:ہارون مرزا ۔۔۔راچڈیل

Advertisement
Advertisement

برطانیہ نے مختلف ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، کو ریڈ لسٹ شامل کر دیا ہے جب کہ پاکستان نے برطانیہ کو ریڈ لسٹ کی بجائے کیٹگری بی میں رکھا ہے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کورونا وائرس اپنے عروج پر ہے پہلے سفر کرنے والے مسافروں کو پرائیویٹ کوویڈ ٹیسٹ کرانا پڑتا ہے جس کے بعد پسنجر لوکیٹر فارم پر کرتے ہوئے انہیں روانگی سے قبل ہی 200 پائونڈ سے زائد ادا کر کے کورونا کٹ بک کرانا پڑتی ہے ،پرائیویٹ ٹیسٹ اور پری پیڈ کورونا کٹ تقریبا300 پائونڈ کے قریب سفر سے قبل ہی مسافروں کو ادا کرنا پڑتے ہیں برطانیہ پہنچ کر ڈے ٹو اور ڈے ایٹ میں کورونا چیک کرانا اشد ضروری ہے اور ان 10 یوم میں کوئی بھی شخص باہر نہیں نکل سکتا اور اسے سیلف آئسولیٹ کرنا پڑتا ہے.
برطانیہ میں 20 لاکھ سے زائدپاکستانی تارکین وطن آباد ہیں جو اس اذیت ناک صورتحال کا شکار ہیں، برطانیہ سے روانگی سے قبل ایمرجنسی سفر کے لیے انہیں معقول وجہ بیان کرنا پڑتی ہے اور پرائیویٹ ٹیسٹ جو تقریبا 150پائونڈ کے قریب بنتا ہے بھی کرانا لازمی ہے اس طرح ایک مسافر ساڑھے 400 پائونڈ کورونا ٹیسٹ پر خرچ کرتا ہے ،ون وے ٹکٹ خریدنے کیلئے اسے600 پائونڈ اور واپسی کا ٹکٹ بھی لینے پر اسے تقریبا 1200 پائونڈ ادا کرنا پڑتے ہیں جو کل ملا کر 17سو پائونڈ بنتے ہیں برطانیہ میں کام کاج اور سخت لاک ڈائون کی وجہ سے لوگوں کی معاشی حالت انتہائی مخدوش ہو چکی ہے اور جو لوگ مکمل برطانوی شہری ہیں وہ تو سوشل سیکورٹی کے فنڈ پر گزارا کر رہے ہیں اور جو لوگ دوسرے ویزوں پر کام کاج کرنے کے لیے گئے تھے وہ نہ تو بینیفٹ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی بچوں کا پیٹ پال سکتے ہیں اگر خدانخواستہ انہیں کوئی ایمرجنسی ہو جائے تو 1500 پائونڈ بمع کورونا ٹیسٹ آنے اور جانے کیلئے ٹکٹ وغیرہ پر خرچ ہوتے ہیں یہ انتہائی بدترین صورتحال ہے ایک دفعہ پرائیویٹ طور پر کورونا ٹیسٹ کرا کے برطانیہ جانے والے مسافروں کو اب ہوٹل میں 10یوم قیام کرنا پڑ ے گا جس کے اخراجات بھی مسافر کی جیب سے ادا ہونگے، مذکورہ قانون کے مطابق پاکستان ، کینیا ، بنگلہ دیش اور فلپائن کو بھی انگلینڈ کے سفر کیلئے ریڈ لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا.
9اپریل سے برطانیہ میں داخل ہونے والے افراد کو ریڈ لسٹ میں شامل ممالک کی طرح پابندیوں کا سامنا کرنا پڑےگا جس کے تحت مسافروں کو ہر صورت قرنطین میں رہنا ہوگا 9اپریل کو صبح 4بجے سے مذکورہ احکامات نافذالعمل ہوں گے ۔ جنوبی افریقہ اور برازیل میں کورونا کی نئی شکلوں کے سامنے آنے کے بعد مزید پابندیاں اور سختیاں سامنے آ رہی ہیں، برطانوی اور آئرش شہریوں کو برطانیہ میں رہائشی حقوق کے حامل افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی لیکن انہیں ایک مقررہ بندرگاہ پر پہنچنا ہوگا اور پھر 10 دن تک حکومت کے منظور شدہ قرنطین ہوٹل میں قیام کے لئے ادائیگی کرنا ہوگی قرنطین میں آنے کے بعد انہیں خود سے الگ تھلگ ہونے کے دوسرے اور آٹھویں دن ایک کورونا ٹیسٹ کرانا پڑے گا جو منفی ہونے کی صورت میں مسافر کو کلیئر کر دیا جائے گا۔
محکمہ برائے نقل و حمل نے کہا حکومت نے مستقل طور پر یہ واضح کردیا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو وائرس پر قابو پانے کے لئے فیصلہ کن اقدام اٹھائے گی اور عوامی صحت کی حفاظت کے لئے ان مقامات کو سرخ فہرست میں شامل کیا ہے فیصلہ حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والے جوائنٹ بائیو سیکورٹی سنٹر کے مشورے پر مبنی ہے ڈی ایف ٹی کے مطابق اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ انگلینڈ میں پائے جانے والے جنوبی افریقہ کے متعدد معاملات کا تعلق بین الاقوامی سفر سے ہے اور بہت کم لوگوں کا خیال ہے کہ وہ یورپ سے آئے ہیں جلد سے جلد 17 مئی تک انگلینڈ کے کورونا وائرس لاک ڈاؤن اقدامات کے تحت بیرون ملک تعطیلات پر پابندی عائد ہے۔ ایک نیا قانون سامنے آیا جس میں جون سے قبل انگلینڈ چھوڑنے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کو500 پائونڈ تک جرمانے کی وارننگ دی گئی ہے وزرا کے بیرون ملک سفر دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیے گئے منصوبوں کے تحت چھٹیاں منانے والے مقامات کو ٹریفک لائٹ سسٹم کے تحت درجہ بندی کیا جاسکتا ہے جس میں کم کورونا وائرس کی شرح اور ٹیکہ لگانے کے زیادہ تناسب والے مقامات پر کم پابندیاں عائد ہیں اطلاعات کے مطابق ، ممالک اس وبا کے مطابق سبز ، امبر یا سرخ رنگ میں درجہ بندی کیلئے استعمال ہوں گے حالیہ ممالک کو شامل کرنے کے بعد ریڈ لسٹ میں شامل ممالک کی تعداد 39ہو گئی ہے خدا جانے یہ کورونا کی بیماری کب ختم ہوگی ہاں البتہ برطانیہ میں آباد 20لاکھ سے زائد پاکستانی اپنے پیاروں کے ساتھ رمضان شریف اور عید کا تہوار منانا چاہتے ہیں مگر یہ قانون نافذ کر کے انہیں بے بس اور مجبور کر کے رکھ دیا گیا ہے ۔
برطانیہ کو چاہئے پاکستان کو فوری طور پر سی کیٹگری سے نکال کر مسافروں کے آنے جانے کیلئے سہولیات پیدا کرے برطانیہ کے اندر تو بتدریج لاک ڈائون ختم ہوتا جا رہا ہے مگر پاکستان کو سی لسٹ میں شامل کر کے ایک ایسا قدم اٹھایا گیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، غیر ملکی ائر لائنوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے اور پی آئی اے پر پابندیاں بدستور جاری ہیں اس ساری صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مضمرات اور نقصانات کا اندازہ اگلے چند سالوں میں ہی لگایا جا سکتا ہے مگر سر دست تارکین اور ان کے اہل خانہ ، عزیز واقارب کے اترے ہوئے چہرے اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ سب کچھ اچھا نہیں ہے سی لسٹ کیٹگری کے مسافروں کو ہوٹل میں رکھ کر 10 یوم تک قید کرنا ضروری نہیں، برطانیہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے وہ ائر پورٹ پر ہی ایسے آلات نصب کر سکتا ہے جس سے کور ونا کے مریضوں کی نشاندہی فوری طور پر ہو سکتی ہے اور جن لوگوں نے کورونا کی ویکسین مکمل کرا لی ہے کم ا ز کم انہیں ان تکلیف دہ مراحل سے نہیں گزارنا چاہیے
پاکستان ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے جہاں پر لوگوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے اب کس پر بھروسہ کریں جن کی ویکسین مکمل ہے کم ا ز کم انہیں ہی ان شرائط سے مبرا قر ار دیا جانا اشد ضروری ہے اگر برطانیہ کو اپنی ویکسین پر بھی اعتبار نہیں یا دوسر ے ممالک میں لگائی جانے والی ویکسین بے سود ہے تو پھر یہ تجربہ کیو ں کیا جا رہا ہے سعودی عرب نے بھی اس امر کی پابندی عائد کی ہے کہ عمرہ اور حج کی اجازت ان لوگوں کو دی جائے گی جن کی ویکسین مکمل ہو چکی ہے ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *