Categories
Breaking news

روس نے پاکستان کو کووڈ-19 ویکسین کی فراہمی کی پیش کش کر دی

 کووڈ-19 ویکسین

ترجمان دفترخارجہ نے روس کی جانب سے پاکستان کو کووڈ-19 ویکسین کی فراہمی کی پیش کش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے باقاعدہ تجاویز موصول ہوئی ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ روس نے ویکسین کی فراہمی کی پیش کش کی ہے اور پاکستان ویکسین کے بروقت حصول کے لیے مختلف ذرائع سے بدستور رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم مناسب قیمت پر مؤثر ترین ویکسین حاصل کریں۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے روس کی جانب سے تجاویز موصول ہوگئی ہیں، جس کو وزارت صحت کو بھیج دیا گیا ہے۔

ترجمان دفترخاجہ نے کہا کہ وزارت صحت اس حوالے سے قواعد، نتائج اور ٹیسٹ کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے 2 دسمبر کو ایک پریس کانفرنس میں کورونا کی ویکسین کے حصول کے حوالے سے کہا تھا کہ توقع ہے کہ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں اس کا پہلا مرحلہ شروع ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی ویکسین کے حصول کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ذریعے 15 کروڑ ڈالر کی رقم کی منظوری دی گئی تھی اور آج کابینہ نے اس کی توثیق کردی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ویکسین کی منظوری کے لیے 7 نکات کا خیال رکھا گیا اور اس کے تحت مختلف کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور ان کے ساتھ باقاعدہ ابتدائی گفتگو شروع ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی استعمال کی اولین ترجیح کووڈ کے علاج میں مصروف صف اول کے طبی عملہ ہوگا، اس کے بعد عمر کی وجہ سے جن کو زیادہ خطرات ہیں، پھر دیگر طبی عملہ اور بعد میں عوام کا نمبر ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کے حصول کے دوران شفاف طریقہ کار کو ممکن بنانے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی درخواست کی گئی تھی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔

ایک سوال پر ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا تھا کہ پہلی لہر میں پاکستان کی کامیابی پر دنیا میں حیرت کا بھی اظہار کیا گیا اور اب دوسری لہر کے درمیان ہیں اور پہلی لہر کی طرح اقدامات کیے تو بہتر نتائج کی امید ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر میں یہ کہوں کہ ایک یا دو، چار ہفتوں میں ویکسین آئے گی تو وہ بات فکس ہوجائے گی لیکن میرا خیال ہے کہ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں اس کا پہلا مرحلہ شروع ہوگا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے روس یا کسی اور ملک کی جانب سے پیش کش سےمتعلق کچھ نہیں بتایا تھا تاہم اب دفترخارجہ نے باقاعدہ پیش کش کی تصدیق کردی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 16 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کی شرح 7.9 فیصد رہی۔

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک اور ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی کی کووِڈ 19 ردِ عمل کی جاری کردہ پہلی ماہانہ رسپانس مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر کو 3 لاکھ 13 ہزار 431 کیسز رپورٹ ہوئے جو 31 اکتوبر کو 3 لاکھ 33 ہزار 970 ہوگئے جبکہ اموات 6 ہزار 499 سے بڑھ کر 6 ہزار 823 تک جا پہنچیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پھیلاؤ کے ساتھ صحت سے متعلق پالیسی اور عمل درآمد کے لیے سخت انتظامی مشکلات کا سامنا ہے جنہیں اگر حل نہ کیا گیا تو اس سے عالمی وبا کی پہلی لہر کے دوران حاصل ہونے ولے فوائد ضائع اور خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کورونا کی دوسری لہر پہلی لہر کے مقابلے میں کہیں زیادہ 'مہلک' ہے۔

حال ہی میں سرکاری عہدیداروں نے مذہبی اسکالرز سے اپیل کی تھی کہ وہ مساجد میں ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کورونا کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکے۔

اس سے قبل صدر عارف علوی کی جانب سے مساجد اور امام بارگاہوں میں اجتماعی نماز کے لیے متفقہ ایس او پیز کو بحال کرنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *