Categories
Breaking news

رواں برس صوبہ سندھ میں سات ہزار سے زائد بچے نمونیہ کے باعث جاں بحق

نمونیہ صوبہ سندھ میں رواں برس سات ہزار سے زائد بچے نمونیہ کے باعث جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ نے کہا ہے کہ 2021 میں صوبے میں 7 ہزار 462 بچے نمونیہ سے زندگی کی بازی ہار گئے۔

محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں رواں سال مجموعی طور پر 27 ہزار 136 بچے نمونیہ سے متاثر ہوئے تھے، جب کہ جان کی بازی ہارنے والے تمام بچوں کی عمریں 5 سال سے کم تھیں۔

رواں سال 5 سال سے زائد عمر کے 8 ہزار 534 بچے نمونیہ سے متاثر ہوئے، جن میں سے 46 بچے صحت یاب نہ ہو سکے اور انتقال کر گئے۔

محکمہ صحت کے مطابق نمونیہ انفیکشن کا تناسب دیہی علاقوں میں زیادہ رہا، وہاں 60 فی صد بچے بیماری سے متاثر ہوئے جب کہ شہری علاقوں میں 40 فی صد بچے نمونیہ سے متاثر ہوئے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ متاثرہ بیش تر بچوں کو نمونیہ ویکسین لگی ہی نہیں تھی۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بچوں میں اموات کی سب سے بڑی وجہ نمونیہ ہی ہے، سرکاری سطح پر پیدائش کے 6، 10 اور 14 ہفتے پر ویکسین کی 3 ڈوزز لگائی جاتی ہیں، نمونیہ کی علامات میں سانس کا تیز چلنا، بخار، متلی، جسم پر نیلے دھبے، کھانسی شامل ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بچوں میں غذائیت کی کمی اور مختلف امراض سے بدستور موت کا رقص جاری ہے، سول اسپتال مٹھی میں غذائیت کی کمی و دیگر امراض میں مبتلا مزید 4 بچے دم توڑ گئے ہیں، جس کے بعد رواں سال جاں بحق بچوں کی تعداد 620 تک جا پہنچی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.