Categories
Breaking news

خیبر پختونخوا اور پنجاب کے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی معطل

 سی این جی اسٹیشنز

سوئی ناردن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سی این جی اسٹیشن کو غیر معینہ مدت تک گیس کی سپلائی روک دی۔

یہ فیصلہ گھریلو صارفین کی 60 لاکھ سے زائد کیوبک میٹر گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

سی این جی سیکٹر نے ایس این جی پی ایل کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے گیس معطلی کو غیر قانونی عمل قرار دیا ہے۔

دوسری جانب کے پی اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت میں کمی آتے ہی گھریلوں صارفین کو گیس بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پُوش علاقوں کے ساتھ چھوٹے علاقوں میں بھی گیس پریشر میں کمی دیکھی جارہی ہے جبکہ کمپریسر کا استعمال کرنے والے گھریلوں صارفین کی وجہ سے کئی علاقوں میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے۔

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن گروپ کے رہنما غیاث پراچہ نے ڈان کو بتایا کہ ’پنجاب اور کے پی کے میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی سپلائی معطل کرنا 17 سال پہلے بنائی گئی پالیسی کے تحت غیر قانونی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گیس کی معطلی توہین عدالت بھی ہے۔

غیاث پراچہ نے دعویٰ کیا کہ ’گیس لوڈ منیجمنٹ پالیسی 2005 کا نفاذ 2 سال کے دورانیے کے لیے کیا تھا، لیکن متعلقہ حکام نے جان بوجھ کر اسے وفاقی کابینہ سے خفیہ رکھا‘۔

ان کامزید کہنا تھا کہ جیساکہ دونوں صوبوں کے سی این جی اسٹیشنز ملکی یا سسٹم گیس کے بجائے ریگیسفائیڈ، لیکویفائیڈ نیچرل گیس استعمال کر رہے ہیں اس لیے یہ پالیسی سی این جی سیکٹر کے لیے قابل عمل نہیں ہے، جب بھی گیس کا بحران پیدا ہوتا ہے سی این جی سیکٹر کو سب سے زیادہ متاثر کیا جاتا ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حالات کے حوالے سے نوٹس لیں۔

علاوہ ازیں، مقامی صارفین بھی گیس کے بحران سے شدید متاثر ہیں،اور صوبے کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو انتہائی کم پریشر میں گیس فراہم کی جارہی ہے۔

لاہور کے محلے سہواری کے رہائشی سعید کا کہنا ہے کہ ’جیسے ہی سردیاں آتی ہیں گیس کی فراہمی متاثر ہوجاتی ہے، جس کے بعد ہمارے پاس مہنگے ایل این سلینڈر کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا‘۔

ٹاون شپ علاقے کے مکین انور نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس پریشر میں کمی کے باوجود صارفین کو مسلسل بڑے بل بھرنے پڑ رہے ہیں۔

ایس این جی پی ایل کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ گھریلو صارفین اولین ترجیح ہونے کے باعث انہیں گیس فراہم کرنا کمپنی کی اولین ترجیح ہیں جس کے بعد دیگر صارفین کو میرٹ کی بنیاد پر گیس فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے وضاحت دی کہ ہم گھریلو صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے سی این جی سیکٹر کے لیے یومیہ 10 کروڑ کیوبک فٹ (ایم ایم سی ایف ڈی) کمی کے بعد گیس گھریلو صارفین کو فراہم کر رہے ہیں، گھریلو صارفین کے لیے گیس کی طلب 7 سو ایم ایم سی ایف ڈی بڑھ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دسمبر سے جنوری کے دوران گھریلوں صارفین کی طلب میں مزید ہوگا، اور سردیوں میں اضافے سے یہ ڈیمانڈ مزید بڑھنے کے بعدایک 200 سے ایک ہزار 300 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ جائے گی۔

ترجمان نے تسلیم کیا کہ چھوٹے علاقوں، خاص طور پر لاہور کے شمالی علاقوں اور وہ علاقے جہاں صارفین گیس کے حصول کے لیے کمپریسر استعمال کر رہے ہیں، یہاں گیس کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرایک گھر کمپریسر استعمال کر رہا ہے تووہ 30 گھروں کا گیس کنزیوم کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.