Categories
Breaking news

خبردارہوشیار،پولیس کے یونیفام میں سوشل میڈیا سرگرمیاں آپ کو سزا دے دلوا سکتی ہیں

Advertisement
Advertisement

میڈرڈ(محمد نبی) پانچ چھ سال پہلے جب سمارٹ فون آیا، تب سے پولیس یونیفارم میں سیلفی اور تصویریں کھینچنے کا رجحان رہا ہے مگر سوشل میڈیا آنے کے بعد یونیفام میں تصویریں لینے اور بیجز دکھانے کا فیشن تیزی سے پرواں چڑھا ہے۔
پولیس رولز کے مطابق سیکورٹی کے یونیفارم کو فلرٹنگ کی غرض سے ‘ٹنڈر’ پر شو کرنا، یونیفام میں ٹک ٹوک پہ ڈانس کرنا یا پھر انسٹراگرام پر ‘پوزنگ’ دینز پر قابل گرفت ہیں اور ان پر سزا ہو سکتی ہے۔
پولیس باڈیز کا اس پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ سیکیورٹی آفسر یونیفارم کی وجہ سے اپنے پیشے یا ادارے کو پیش کر رہا ہوتا ہے، لہزا جو بھی یونیفارم پہنتا ہے، اس سے تحکم اور طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس یونیفارم کا غلط استعمال ادارے کے احترام میں کمی لانے کا باعث بنتا ہے اور ساتھ ہی ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
2015 میں نیشنل پولیس نے ایک اصول تشکیل دیا تھا جس کے مطابق جن اہلکار کے سوشل نیٹ ورک پر ذاتی اکاؤنٹس یا پروفائلز ہیں، ایسی چیزیں ڈالنے سے گریز کریں گے جو مواد کی سرکاری حیثیت کی وجہ سے دوسرے یوزر کو غلط تاثر دیں۔
سویل گارڈ نے ایک نیا لائحہ عمل تشکیل دیا ہے اور وہ پر عزم ہے کہ نئ اصلاحات سے اس فیشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ نئے تشکیل پانے والے مسودے کے مطابق، سرکاری یونیفارم کا مواصلاتی ٹیکنالوجیز یا دوسرے سماجی ویب سائٹس پر اظہار پر سختی سے پابندی ہوگی۔ تاوقتیکہ پہلے اجازت نہیں لی جاتی۔
تاہم ذرائع خبردار کرتے ہیں کہ یہ بحث جتنی سہل لگتی ہے، اتنی ہی پیچیدہ ہے۔ کیوں کہ ان ضابطوں کی وجہ سے بنیادی حقوق کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *