Categories
Breaking news

خالد مقبول کے فیصلے پر آنکھ بند کر کے عمل کریں گے: MQM رہنما

خالد مقبول کے فیصلے پر آنکھ بند کر کے عمل کریں گے: MQM رہنما

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر امین الحق نے کہا ہے کہ جو بھی فیصلہ ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی اور رابطہ کمیٹی کا ہوگا ہم سب آنکھ بند کر کے اس پر عمل کریں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کی خاتون رہنما کشور زہرا اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امین الحق نے یہ بات کہی۔

اس موقع پر کشور زہرا نے کہا کہ میں میڈیا کی یہ غلط فہمی دور کردوں کہ وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر گامزن ہیں اور یہ دیکھ رہے ہوں گے اپوزیشن کے پاس کتنی سیٹیں ہیں، ویٹ اینڈ سی عوام کے لیے ہے جنہوں نے ہمیں منتخب کر کے یہاں بھیجا ہے۔

تحریکِ عدم اعتماد: قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی، اپوزیشن کا شدید ردِ عمل

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابا کیا، شہباز شریف کو اسپیکر نے مائیک پر بولنے کی اجازت نہیں دی، حکومتی ارکان نے عمران خان زندہ باد کے نعرے بلند کیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تینوں چیزیں ان کے سامنے رکھی ہیں، ہم پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ساتھ بھی رہے، اس میں ہمیں کیا ملا اور کیا کھویا، اب پی ٹی آئی کے ساتھ ہمارا ٹائم پورا نہیں ہوا لیکن ان کی بھی چیزیں سامنے موجود ہیں۔

کشور زہرا نے کہا کہ ہم گراس روٹس تک جاتے ہیں، ہمیں خوشی ہے کہ 2 دن اور مل گئے، کچھ علاقے، بستیاں، کچھ ساتھی ہمارے ایسے تھے کہ ابھی ان کی جانب سے جواب نہیں آئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ وزارت تو ہم جہاں بھی رہیں مل سکتی ہے، لیکن وزارت اور گورنر شپ ہمارا مقصد نہیں، ہمارا مقصد ہے کہ ہمارے وجود کو تسلیم کیا جائے، 70 سال سے یہ جدوجہد چل رہی ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے اپنے اراکین اسمبلی کو تعلقات محدود کرنے کی ہدایت کردی

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ توڑنے اور کمزور کرنے کے طریقے ناکام ہوچکے ہیں، ایم کیوایم کامستقبل نوجوان ہیں۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ ہم نہ سمندر میں ڈوبنے جا رہے ہیں، نہ ہم کہیں اور جا رہے ہیں، اس سر زمین پر اس بستی میں ہم کھڑے ہوئے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں وہی سارے حقوق چاہئیں، جو کبھی 40 فیصد، کبھی 60 فیصد تقسیم کر دیے گئے، کبھی میرٹ کا خاتمہ کر کےختم کر دیے گئے، ہمیں وہی حقوق چاہئیں، ہم انہی حقوق کے لیے کھڑے رہیں گے، ہمیں وزارت نہیں چاہیے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.