Categories
Breaking news

حکومت کسی بھی بحران کو قابو نہیں کرسکی، شہبا زشریف

حکومت کسی بھی بحران کو قابو نہیں کرسکی، شہبا زشریف

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کسی بھی بحران کو قابو نہیں کرسکی۔

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ اگر عوام کی جیب خالی ہے تو یہ بجٹ جعلی ہے، یہ بجٹ مہنگائی اور بے روزگاری کا بجٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تھوڑی بہت آزادی تھی وہ بھی منی بجٹ میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) کے حوالے کردی گئی۔

اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ معیشت کو آئی ایم ایف کی تحویل میں دے دیا گیا، منی بجٹ ہمارے دفاعی ایشوز کو مزید پیچھے لے جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ بجٹ سے متعلق بھی پی ٹی آئی نے اپنی روایت کے مطابق یوٹرن لیا، یہ بچوں کے دودھ پر بھی جی ایس ٹی لگارہے ہیں۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اس وقت مہنگا ترین ملک بن چکا ہے، دنیا کے ممالک جی ایس ٹی کم کررہے ہیں یہ بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تو کہتے تھے سو ارب فلاں، سو ارب فلاں کےمنہ پر ماریں گے، حکومت آئی ایم ایف کی شرائط نہ مانے تو ساتھ دیں گے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ آئیں اس ایوان میں بات کریں، صوبوں سے بات کریں، ایک ارب ڈالر کا انتظام ہم مل جل کر کرسکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے عوامی مفاد میں کھڑی ہو تو اپوزیشن ساتھ دے گی، حزب اختلاف نے فیٹف پر ملک کے لیے تعاون کیا ۔

شہباز شریف نے کہا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین گواہی دیں گے کہ ہمارے ایل این جی منصوبے سب سے سستے لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وزیر خزانہ نے سستے منصوبے لگانے میں ہماری مدد کی تھی، آج پتہ نہیں اس وزیر خزانہ کو کیا ہوگیا ہے، جو آئی ایم ایف کےگرویدہ ہوگئے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم نے تعاون کیا توجواب میں ہمیں چور اور ڈاکو کہا گیا، ہم وافر بجلی پیدا کرکے گئے، آج پھر بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کل میں نے کہا روم جل رہا تھا، نیرو بانسری بجارہا تھا، آج انہوں نے ثابت کردیا روم جل رہا ہے اور نیرو بانسری بجارہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ کس نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر کہا تھا کہ بجلی مہنگی ہوتی ہے تو وزیراعظم چور ہوتا ہے، یہ بات نواز شریف یا شاہد خاقان نے نہیں عمران نیازی نے کہی تھی۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *