Categories
Breaking news

حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کا ہنگامہ آرائی کا منصوبہ

وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی لیڈر شپ نے تحریک عدم اعتماد کے موقع پر پارلیمنٹ لاجز اور پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ بنالیا۔

جیو نیوز کے سینئیر اینکر پرسن حامد میر کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن ارکان کو قومی اسمبلی پہنچنے سے روکنے کے لیے پارلیمنٹ لاجز میں روکا جائے گا، کوئی رکن قومی اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوجائے تو اسے زد و کوب کیے جانے کا خدشہ ہے۔

آپ کا کپتان نہیں پتہ کہ کل کیا کر دے، وزیراعظم عمران خان

عمران خان نے کہا کہ جو ان لوگوں نے امریکا کے ساتھ ملکر کیا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا اس ملک میں، چوروں اور امریکا کی سازش کے خلاف عوام کھڑے ہوں۔

حکومت کا منصوبہ یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کرنے والوں کو ڈی چوک سے آگے رسائی دے دی جائے۔

حامد میر کے مطابق پتا چلا ہے کہ کل ووٹنگ کے عمل میں تاخیر کی تجویز کی اسپیکر نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کل آخری دن ہے، ووٹنگ کو موخر نہیں کرسکتے۔

حامد میر کے مطابق کل پارلیمنٹ میں ممکنہ ہنگامہ آرائی کے ثبوت مل چکے ہیں، شواہد کی روشنی میں کچھ اہم لوگوں کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔

حامد میر کا مزید کہنا ہے کہ فی الحال فیصلہ کیا گیا ہے کہ شواہد کو سامنے نہ لایا جائے، کل کا دن گزرنے دیا جائے، تحریک عدم اعتماد کا مرحلہ ختم ہونے پر شواہد سامنے لائے جائیں گے۔

قومی اسمبلی کے کل کے اجلاس کا 6 نکاتی ایجنڈا جاری

قومی اسمبلی کے کل کے اجلاس کا 6 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ ایجنڈے میں شامل ہے۔

وزیراعظم کا ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں عشائیہ، اراکین کی تعداد سامنے آگئی

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے عشائیہ میں 140ارکان پارلیمنٹ شریک ہیں۔

ایجنڈے کے مطابق قائد حذب اختلاف شہباز شریف کی جانب سےپیش کی گئی قرار داد پر ووٹنگ کی جائے گی۔

قرار داد کے مطابق ایوان وزیراعظم عمران خان پر عدم اعتماد کرتا ہے۔

قرارداد کے مطابق عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے، وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.