Categories
Breaking news

جس کوآپ حکومت کہتےہیں ہم اُسےحکومت نہیں سمجھتے ،جو سیاسی قوت نہیں وہ سیاست میں نہ آئے:مولانا فضل الرحمان

Advertisement

جس کوآپ حکومت کہتےہیں ہم اُسےحکومت نہیں سمجھتے ،جو سیاسی قوت نہیں وہ سیاست میں نہ آئے:مولانا فضل الرحمان

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم آئینی راستہ اختیار کررہے ہیں،ہم بندوق تونہیں اٹھا رہے،ہم عوام میں جارہےہیں،ہم سےکسی نےرابطہ نہیں کیا،اگر کسی اور سےکسی نے رابطہ کیاہے تو مجھے علم نہیں ،مذاکرات کیلئےاعتبارکس پرکیاجائے؟جس کوآپ حکومت کہتےہیں ہم اُسےحکومت نہیں سمجھتے ،جو سیاسی قوت نہیں وہ سیاست میں نہ آئے،میراکردارہےمیں نےصاف ستھری زندگی گزاری ہے،ملک کےتمام معاملات میں اگرکوئی غیرمتعلقہ شخصیت ہےتووہ عمران خان ہیں، مینار پاکستان کے سائے تلے ازسر نو عزم کرینگےہم نےاس ملک کوبچاناہے،جن عرب ملکوں نےاسرائیل کوتسلیم کیاہم اختلاف کرتےہیں،یہ اُمت مسلمہ کی نہیں صرف بادشاہوں کی رائےہے ۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس 15دسمبرکوہوگا

نجی ٹی وی کے پروگرام "جرگہ"میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ الیکشن 2018 میں ہونے والی بدترین دھاندلی کے بعد

ہماری تجویز تھی کہ اسمبلیوں میں حلف نہ اٹھایا جائے،ہم مسلسل ایک متفقہ موقف دہراتے رہے ہیں،25کوالیکشن ہوا ،26جولائی کو سب کاموقف آگیا تھا،تب سےایک موقف چلاآرہاہے،ووٹ عوام کی امانت ہے جس پر ڈاکہ ڈالا گیا ،پیپلزپارٹی سندھ میں اکثریت کے باوجود کہتی ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے،ملک کی معیشت تباہ ہوگئی،ترقی کاتخمینہ پہلے سال1.9اوردوسرےسال صفرپر آگیا۔انہوں نے کہا کہ جب عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دیا اس وقت ہمارا الیکشن کمیشن پر کوئی اعتراض نہیں تھا نہ اس کا تھا،اسوقت انھوں نے4حلقوں کی بات کی پھر4سے 10حلقوں پر گئے ،پھر جتنا جتنا ہم مانتے گئے اتنا وہ بڑھتے گئے یہاں تک کے ستر حلقوں پر چلے گئے ،ہم نےسترحلقوں پر بھی ہاں کردی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی ،اس وقت کوئی دباؤ نہیں تھا ، اب تو دھاندلی ہوئی ہے ، اسوقت کوئی سیاستدان جیل میں نہیں تھا ، آر ٹی ایس سسٹم فیل نہیں ہواتھا،اب تو لوگوں کوجیل میں ڈال کر،نااہل قراردیکر آپ نےملک میں الیکشن کرائے۔

سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ہم سےکسی نےرابطہ نہیں کیا،اگر کسی اور سےکسی نے رابطہ کیاہے تو مجھے علم نہیں تاہم بتایا جائے کہ مذاکرات کیلئےاعتبارکس پرکیاجائے؟جسکوآپ حکومت کہتےہیں ہم حکومت نہیں سمجھتے ،جو سیاسی قوت نہیں وہ سیاست میں نہ آئے، سیاستدانوں کو آپس میں چھوڑ دیں،ہم تنقید بھی کریں گے گفتگو بھی کریں گے، ہم آئینی راستہ اختیار کررہے ہیں ،ہم بندوق تونہیں اٹھا رہےہیں،عوام میں جارہےہیں،ملک کےتمام معاملات میں اگرکوئی غیرمتعلقہ شخصیت ہےتووہ عمران خان ہیں،نااہل لوگ جب حکمران ہونگےتوبجٹ زمین پرآجائیگااقتصادی طورپرملک تباہ ہوجاتا ہے ،

امریکا نے فائزر اوربائیو این ٹیک کی کورونا ویکسین کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری دیدی

Advertisement

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چیئرمین نیب کا احترام کرتاہوں وہ بھی دباؤ میں ہیں ،نیب کو ایک جانبدار ادارہ سمجھتا ہوں،احتساب مشرف کے دور سے چل رہا ہے اور نیب کا ادارہ مشرف نے قائم کیا ، میں نےاس وقت بھی کہا تھا کہ نیب صرف بینظیربھٹو،نوازشریف کےوفاداروں کااحتساب کریگا،اب جب دھاندلی زدہ حکومت آئی تو وہ کیسز دوبارہ کھولے گئے ،میراکردارہےمیں نےصاف ستھری زندگی گزاری ہے،کسی وقت کہا گیا تھا کہ دبئی میں میرا ہوٹل ہے،40سال اس ماحول میں گزارے،کونسی چیزہےجوہم سےچھپائی جاسکتی ہے ،یہ لوگ نہ میری کردار کشی کرسکتے ہیں نہ ان میں ہمت ہے ۔

کورونا کے وار جاری، 24 گھنٹوں میں مزید 71 مریض دم توڑ گئے

اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ مکالمہ جاری ہے اصولی اتفاق ہوچکا ہے کہ استعفے جمع کیے جائیں ،بڑےاعتمادکےساتھ صورتحال آگے بڑھ رہی ہے،یقین ہے کہ اتفاق رائے تک پہنچ جائیں گے، فیصلہ تو یہی ہے کہ جنوری کے آخر یا فروری کے شروع میں اسلام آباد آئینگے،تجویزپرغور کیاجارہاہےکہ ہم آئیں دھرنا نہ دیں ،اجتماع کریں،اسمیں استعفےساتھ لائیں،حکومت کوروناپرغیر سنجیدہ ہے ، جب ہم جلسہ کرتےہیں توکوروناخودکرتےہیں توکورونا نہیں،کیا وبا کی اتنی بڑی لہرہےیااسکوبڑھا چڑھا کر اس لیےپیش کیا جا رہاہےکہ پی ڈی ایم کےجلسےکنٹرول کیے جاسکیں۔انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہدکھ ہے کہ شبلی فراز کو خود کو اس درجے میں نہیں لانا چاہیے تھا،جھوٹ بول کر آپ کب تک سیاسی مقاصد حاصل کرسکتے ہیں؟زندہ دلان لاہور اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے کارکنوں کومبارکباد پیش کرتاہوں،کل مینار پاکستان کے سائے تلے ازسر نو عزم کرینگےہم نے اس ملک کو بچانا ہے۔

یورپی یونین اور پاکستان کے مابین بلوچستان کی ترقی کا معاہدہ

سربراہ پی ڈی ایم مولانافضل الرحمان نے کہا کہ حکومت داخلی کے ساتھ خارجی امور پر بھی مکمل ناکام ہو چکی ہے،سعودی عرب،یواےای اورچین کواس نےناراض کیا،پاکستان کےدوستوں کی لابی تھی آج ایک دم تبدیلی کیوں آرہی ہے؟عمران خان کہاکرتاتھاکشمیرکو3حصوں میں تقسیم کرناچاہیے ،آپ ہوتے کون ہیں فارمولے پیش کرنے والے ؟کشمیرکافیصلہ کشمیریوں کوکرناہے پاکستان کاریاستی رخ ایک طرف،آپ ایک نیا رخ دےرہے ہیں،۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن عرب ملکوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہم اختلاف کرتےہیں، انھوں نےفلسطینی بھائیوں کاخون کیوں بیچاہے؟یواےای،بحرین نےکیوں اسرائیل کوتسلیم کیا؟یہ امت مسلمہ کی رائے نہیں،یہ صرف بادشاہوں کی رائےہے،سلیکٹڈ کےارادے،عزائم کچھ اورہیں،یہاں پراسرائیل کوتسلیم کرنااتنی آسان بات نہیں کہ وہ ترلقمہ سمجھ کرنگل سکے گا۔

سرکاری ہسپتال کے اندر دھوم دھام سے شادی،کھانا بھی ہسپتال کے وارڈ میں دیا گیا

مزید :

Breaking Newsاہم خبریںقومی

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *