Categories
Breaking news

جس وقت حملے میں حسن شہید ہوا، اسی وقت گھر پر بہن بھی چل بسی

Advertisement

کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگرد حملہ ناکام بنانے والے شہید سیکیورٹی گارڈ حسن کی نماز جنازہ لیاری میں ادا کردی گئی۔

سیکیورٹی کمپنی کے سپروائزر کے مطابق جس وقت اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں حسن شہید ہوا، اسی وقت گھر پر بہن بھی انتقال کرگئی۔

اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں شہید ہونے والے سیکیورٹی گارڈ حسن کی نماز جنازہ ان کی بہن کے ساتھ ہی ادا کی گئی۔

واضح رہے کہ آج صبح پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والا دہشت گروں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا، سیکیورٹی فورسز نے 4 دہشت گروں کو ہلاک کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار سمیت 4 سیکیورٹی گارڈ بھی شہید ہوئے۔

ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق حملےمیں ملو ث تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردوں نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کی۔

پی ایس ایکس حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کی دستاویزات جیونیوز نے حاصل کرلی

گاڑی کارساز کے قریب شاہراہ فیصل پر واقع شوروم سے خریدی گئی، شو روم پر سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

ڈی آئی جی ساوتھ کا کہناتھا کہ دہشت گرد جس گاڑی میں آئے تھے اسے بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے، پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق دہشت گروں کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر جدید اسلحہ اور دستی بموں سے حملہ کیا گیا تھا۔

ایس ایس پی سٹی مقدس حیدر کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے پولیس اہلکار اور 4 سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ سول اسپتال میں 7 زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔

پی ایس ایکس حملے میں شہید سیکیورٹی گارڈز دو مختلف کمپنیوں کے تھے

کرنل ریٹائرڈ محسن نے کہا کہ افتخار وحید دسمبر 2016 اور خدایار دسمبر 2014 سے اسٹاک ایکسچینج پر تعینات تھے۔

مقدس حیدر نے بتایا کہ فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے جسے اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔

حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی علاقوں کا بھی مکمل محاصرہ کرلیا جب کہ حملے کے بعد آئی آئی چندریگر روڈ کو میری ویدرٹاور اور شاہین کمپلیکس سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگرد جدید اسلحہ سے لیس تھے اور ان کے پاس بارودی مواد سے بھری جیکٹیں بھی موجود تھیں۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *