Categories
Breaking news

جسم میں پانی کی کمی کی کیا علامات ہیں؟ تحقیق سامنے آ گئی

جسم میں پانی کی کمی

پانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے، اور اس کی کمی پورے جسم پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔

اور جسم میں پانی کی کمی کے لیے بہت زیادہ دوڑنے کی بھی ضرورت نہیں، کافی دیر تک پانی نہ پینا ہی جسم میں اس کی کمی کا باعث بن جاتا ہے۔

بالخصوص موسم گرما کے دورن تو ڈی ہائیڈریشن کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ پسینے کی شکل میں پانی کا بہت زیادہ اخراج ہوتا ہے۔

اچھی بات تو یہ ہے کہ اس سے بچنا بھی بہتآسان ہے بس پانی ہی تو پینا ہے، تاہم اس کا خیال نہ رکھنا مختلف پیچیدگیوں کا باعث بھی بنتا ہے۔

طبی سائنس کے مطابق معمولی کمی یعنی جسم میں پانی کی مقدار کا ایک سے 2 فیصد حصہ کم ہونا بھی روزمرہ کے افعال کو سرانجام دینے کی صلاحیت بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔

بدقسمتی سے ڈی ہائیڈریشن کے ابتدائی مراحل کو شناخت کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی سب سے عام علامات ایسی ہیں جو دیگر متعدد وجوہات کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں۔

تاہم گرم موسم میں درج ذیل نشانیاں نظر آئیں تو بہتر ہے کہ ایک یا 2 گلاس پانی پی لیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی کا مسئلہ تو نہ ہو۔

سانس میں بو یا منہ خشک ہونا

ویسے ضروری نہیں کہ سانس میں بو پانی کی کمی کا نتیجہ ہی ہو، مگر یہ اس کی اہم نشانیوں سے میں ایک ضرورت ہے۔

جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو لعاب دہن بننے کا عمل بھی متاثر ہوتتا ہے، جو منہ میں کھانے کے ذرات کے ٹکڑے کرنے اور صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔

لعاب دہن سے ہونے والی صفائی متاثر ہونے سے بیکٹریا کی نشوونما ہوتی ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں، تو اگراس طرح کا مسئلہ ہو تو ایک یا 2 گلاس پانی پی کر دیکھیں، اگر بو ختم ہوجائے تو سمجھ لیں کہ جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہورہا تھا۔

اسی طرح منہ خشک ہونے بھی جسم میں پانی کی کمی کی ایک اور ممکنہ علامت ہے، ویسے تو یہ بھی مختلف طبی مسائل کے باعث بھی ہوسکتا ہے، تاہم اگر منہ اکثر خشک یا چپچپا محسوس ہو، یا ہر وقت پیاس کا احساس ہو تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے چیک کرالیں۔

مسلز کی تکلیف یا ان کا اکڑنا

طبی ماہرین کے مطابق جسمانی سرگرمی کے دورران اگر مسلز اکڑ جائے تو یہ ڈی ہائیڈریشن اور الیکٹرولائٹ کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، کیونکہ جسم اہم منرلز جیسے سوڈیم اور پوٹاشیم کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے۔

یہ منرلز جسم میں پانی کی سطح کا توازن بحال رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور اعصابی نظام کے افعال کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔

پانی کی کمی سے مسلز میں تکلیف یا اکڑنے کا مسئلہ صرف سخت جسمانی سرگرمیوں کے عادی افراد کو نہیں ہوتا، بلکہ چہل قدمی کے دورران ہی مسلز میں تکلیف یا کھچاؤ کا احساس ہو تو یہ بھی پانی کم پینے کی نشانی ہوسکتی ہے۔

سردرد

جی ہاں سردرد واقعی معمولی سے معتدل ڈی ہائیڈریشن کی عام علامت ہے، جس کی شدت قابل برداشت یا بہت زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔

ڈی ہائیڈریشن سے آدھے سرکے درد کا مسئلہ بھی زیادہ متحرک ہوجاتا ہے، جس کی وجہ ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آسکی۔

تاہم محققین کے مطابق ڈی ہائیڈریشن سے عارضی طور پر دماغی ٹشوز سکڑ جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ سردرد کی شکل میں نکلتا ہے۔

پیشاب کی رنگت میں تبدیلی

یہ ڈی ہائیڈریشن کو پکڑنے کا آسان ترین ذریعہ بھی سمجھا جاسکتا ہے، بس پیشاب کی رنگت کو دیکھیں اگر وہ گہرے زرد رنگ کا ہے تو یہ جسم کا اشارہ ہے کہ ایک یا 2 گلاس پانی پی لیں۔

جتنا زیادہ پانی پینا عادت بنائیں گے پیشاب کی رنگت اتنی زیادہ شفاف ہوگی، ہلکا پیلا رنگ ہائیڈریشن کا اشارہ دیتا ہے۔

سرچکرانا، متلی

اگر اچانک سرچکرانے لگے یا متلی کا احساس ہو تو ہوسکتا ہے کہ یہ کسی بیماری کا نتیجہ ہو، مگر یہ پانی کی کمی کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔

موسم گرما میں فلو جیسی یہ علامات ڈی ہائیڈریشن کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں، جس میں لوگوں کو بخار یا ٹھنڈ لگنے کا احساس بھی ہوسکتا ہے، جو پانی کی بہت زیادہ کمی کا باعث ہوتا ہے۔

بھوک لگنا

پیاس اور تھکاوٹ ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں، کیونکہ ان کو دماغ کا ہی ایک حصہ کنٹرول کرتا ہے جو جسمانی درجہ حرارت کا بھی خیال رکھتا ہے۔

اگر کھانے کے کچھ دیر بعد ہی دوبارہ بھوک لگنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اصل میں بھوک نہیں پیاس ہو۔

اس اچانک بھوک کے ساتھ اوپر درج نشانیوں میں سے کچھ بھی موجود ہوں تو یہ ڈی ہائیڈریشن کا ہی نتیجہ ہے، مگر لوگ اکثر اس کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔

تھکاوٹ

جسم میں پانی کی مناسب مقدار دن بھر توانائی کی سطح کو مستحکم رکھنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔

ہائیڈریشن سے جسم کو خلیات تک اہم اجزا پہنچانے میں مدد ملتی ہے اور اعضا اپنے افعال جاری رکھتے ہیں، مگر پانی کے کمی سے یہ افعال تھکاوٹ کا شکار کردیتے ہیں۔

اور ہاں پانی نیند کے معیار پر براہ راست اثرانداز ہونے والا عنصر ہے، جس کی کمی سے نیند پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تاہم بہت زیادہ پانی پینا بھی نقصان دہ ہے کیونکہ رات کو کئی بار پیشاب کرنے کے لیے اٹھنا پڑتا ہے جس سے بھی تھکاوٹ کا امکان ہوتا ہے، تو توازن کو برقرار رکھنا ہی اہم ہدف ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *