Categories
Breaking news

جرمنی سے ملک بدر ہونے والے33 پاکستانی شہریوں کو لے کر جانے والا طیارہ اسلام آباد میں اتر گیا

Advertisement
Advertisement

جرمنی سے ایک بار پھر درجنوں پاکستانی تارکین وطن کو اجتماعی طور پر ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے باوجود میونخ سے تینتیس پاکستانی شہریوں کو لے کر جانے والی پرواز اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے بدھ انیس اگست کے روز بتایا کہ جرمنی سے 33 پاکستانی شہریوں کو لے کر جانے والا طیارہ اسلام آباد میں اتر گیا ہے۔ ان پاکستانیوں کی وطن واپسی کی پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
وفاقی جرمن ریاست باڈن ورٹمبرگ سے سن 2017 کے اختتام تک ساڑھے پچیس ہزار غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جانا تھا۔ ان میں 1803 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔یہ طیارہ جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ سے کل منگل کو اپنے سفر پر روانہ ہوا تھا اور آج بدھ کو صبح سویرے یہ پرواز پاکستانی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر لینڈ کر گئی۔
میونخ ایئر پورٹ پر جرمنی کی وفاقی پولیس نے بھی پاکستانی باشندوں کی اس اجتماعی ملک بدری کی تصدیق کر دی ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق جو تقریباﹰ تین درجن شہری واپس وطن پہنچے ہیں، وہ سب کے سب مرد ہیں۔ ان میں سے 24 جرمنی میں مقیم تھے، سات ہمسایہ ملک آسٹریا میں اور باقی دو کو جرمنی کے ایک اور ہمسایہ ملک پولینڈ سے حکام نے ملک بدر کیا تھا۔ ان سب کو میونخ میں اکٹھا کر کے اسلام آباد بھجوایا گیا۔

ملک بدریوں میں التوا ختم
جرمنی میں کورونا وائرس کی وبا کے عروج کے دنوں میں حکام نے پناہ کے متلاشی ان غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا عمل مؤخر کر دیا تھا، جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ چند ماہ کے تعطل کے بعد یہ عمل ایک ماہ پہلے اس وقت بحال کیا گیا تھا، جب کافی زیادہ تعداد میں پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا تھا۔
کئی ممالک نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی کوششوں کو بنیاد بنا کر اپنے ہی شہریوں کو واپس قبول کرنے سے انکار بھی کر دیا تھاجولائی میں جرمنی سے ملک بدر کیے گئے یہ غیر ملکی بھی پاکستانی تھے اور جرمنی سے روانگی کے بعد ان کو لے کر جانے والی پرواز یونانی دارالحکومت ایتھنز میں رکی تھی۔ وہاں سے مزید پاکستانی شہریوں کو لے کر یہ طیارہ پاکستان گیا تھا۔

غیر یورپی ممالک میں ملک بدری
جرمن حکام کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے باعث جرمنی سے پناہ کے ناکام درخواست دہندگان کی ان کے غیر یورپی آبائی ممالک میں جبری واپسی کا عمل دراصل کبھی باقاعدہ معطل نہیں گیا تھا بلکہ اس میں صرف وقفہ آ گیا تھا۔
مجموعی طور پر جرمنی سے پناہ کے متلاشی غیر ملکیوں کی ان کے غیر یورپی آبائی ممالک میں ملک بدری اس سال مارچ کے مہینے سے اب تک کافی کمی آ چکی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پہلے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں مسافر پروازیں بھی بند تھیں اور کئی ممالک نے اس مہلک وائرس سے بچاؤ کی کوششوں کو بنیاد بنا کر اپنے ہی شہریوں کو واپس قبول کرنے سے انکار بھی کر دیا تھا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *