Categories
Breaking news

جج ارشد ملک کے کیس سے ہم نے سبق حاصل نہیں کیا، شاہد خاقان

Advertisement

سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جج ارشد ملک کے کیس سے ہم نے سبق حاصل نہیں کیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈھائی سال گزر چکے لیکن نیب کیس میں اب تک جرم کا نہیں پتہ چل سکا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا عجیب واقعہ ہے کہ تمام کیسز اپوزیشن پر ہیں، وزیر اربوں روپے ادوایات، چینی، گندم میں کھا جائیں لیکن کوئی نہیں پوچھے گا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھ پر کرپشن کا کیس نہیں، ایل این جی ٹرمینل لگانے پر کیس بنایا گیا، ایل این جی ٹرمینل کی سالانہ پیمنٹ 14 ارب ہے۔

شاہد خاقان نے ضمانتی مچلکے جمع کرا دیے

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق کی تعیناتی کے نیب ریفرنس میں راہداری ضمانت ملنے پر 2-2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دیے ۔

انہوں نے کہا کہ ایک موجودہ وزیر کے پاور پلانٹ کو ایل این جی کا پندرہواں حصہ جاتا ہے، جس سے 16 ارب کی سالانہ بچت کی جا رہی ہے۔

سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس وزیر کو 5 سال میں ڈھائی سو ارب بچا کر دیئے، وزیرِ پیٹرولیم کو چیلنج کرتا ہوں کہ بتائیں ایل این جی منصوبہ فائدہ مند ہے یا نہیں؟

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں گیس کی شدید قلت ہے، آج ملک میں نہ گیس ہے، نہ بجلی، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، جھوٹ بیچ کر اب ملک نہیں چلایا جا سکتا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کی ترامیم قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ریکارڈ میں موجود ہیں، وزیرِ اعظم این آر او نہیں دے سکتے، این آر او حکومت نے اپنے وزیروں کو دی۔

یہ بھی پڑھیے

انہوں نے کہا کہ نیب جب تک رہے گا تب تک ملک نہیں چلے گا، آج نارووال اسپورٹس سٹی کا کیس چل رہا ہے، کل کرتار پور بھی چلے گا، کرتار پور منصوبہ 17 ارب کا ہے۔

نون لیگی رہنما نے مزید کہا کہ جس کو این آر او کی تکلیف ہے اس کو جواب بتا سکتا ہوں، ندیم بابر بتا دیں کہ انہوں نے کوئی سچ بولا ہو، حکومتی وزراء صرف جھوٹ ہی بول سکتے ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جھوٹوں کا ٹولہ ہے جو عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے، حکومتی وزیر پہلے فیصلہ کر لیں کہ بجلی مہنگی لگی ہے یا سستی۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *