Categories
Breaking news

جاوید عباسی کا لسٹڈ کمپنیز سے متعلق بل، وزارت خزانہ کی مخالفت

Advertisement
جاوید عباسی کا لسٹڈ کمپنیز سے متعلق بل، وزارت  خزانہ کی مخالفت

Advertisement

وزارت خزانہ نے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی کے لسٹڈ کمپنیز کا 2 فیصد منافع علاقائی ترقی، فلاح و بہبود پر لازمی خرچ کرنے کے بل کی مخالفت کردی۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں ٹیکسز کی چھوٹ سے متعلق معاملات زیر غور آئے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ملک میں لسٹڈ کمپنیوں کی تعداد کم ہورہی ہے، کورونا وائرس کے دوران یورپ اور امریکا میں ٹیکس کی چھوٹ دی گئی۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے مزید کہا کہ حکومت نے کورونا وائرس کے دورانیے میں ایسا ریلیف دیا جس سے سیٹھ کو فائدہ ہوا جبکہ مزدور کے لیے یہ کوئی کام نہیں آیا۔

اس موقع پر ن لیگی سینیٹر جاوید عباسی نے لسٹڈ کمپنیز کے منافع کا 2 فیصد علاقائی ترقی، فلاح و بہبود پر لازماً خرچ کرنے کے لیے کمپنیز ایکٹ 2017ء میں ترمیم کا بل پیش کیا۔

جاوید عباسی کے بل میں کہا گیا کہ مختلف علاقوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے خالص منافع سے 2 فیصد مقامی علاقے پر لگایا جائے، 5 کروڑ خالص منافع کمانے والی کمپنی 10 لاکھ روپے ترقیاتی کاموں کیلئے خرچ کرے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش کیے گئے بل کی وزارت خزانہ نے مخالفت کی، جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم بل مسترد نہیں کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز لیں گے، کمپنی ڈائریکٹرز اور معروف سوشل ورکرز کو بھی بورڈ میں شامل کیا جائے گا اور رپورٹ ایوان میں پیش کریں گے۔

Table of Contents

x
Advertisement

چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ملک میں سوشل سیکیورٹی نہیں ہے، ایف بی آر نے تمام ٹیکس چھوٹ سیٹھ کو دی ہیں، یہ چھوٹ غریب آدمی کیلئے ہے۔

اس موقع پر ایس ای سی پی حکام اور چیئرمین ایف بی آر نے بھی اظہار خیال کیا۔

حکام ایس ای سی پی نے بل سے متعلق کہا کہ ترمیم کی وجہ سے دوسرے قوانین کو بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔

چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس استثنا ختم کرکے محصولات بڑھائی جائیں گی، گزشتہ مالی سال 3 اعشاریہ9 ٹریلین روپے کے محصولات رہے اور 1اعشاریہ4 ٹریلین ٹیکس استثنا دی گئی۔

ایف بی آر نے مزید کہا کہ کمپنیوں کو ٹیکس استثنا دینے سے انکم ٹیکس میں بڑے پیمانے پر گراوٹ کا خدشہ ہے، کمپنیوں کو اس پر ٹیکس چھوٹ دینے سے ریونیو میں شارٹ فال بڑھ جائے گا۔

اجلاس میں آئندہ مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنا ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *