Categories
Breaking news

ترکی آنے والے لبنانی جوڑے کا بچہ پیدائش کے کچھ دیر بعد ہی نرس نے غائب کردیا

Advertisement
Advertisement

 نومولود

روزگار کے سلسلے میں ترکی آنے والے لبنانی میاں بیوی پر قیامت ٹوٹ پڑی، بچے کی پیدائش کے کچھ دیر بعد ہی نرس نے نومولود کو لے کر غائب کردیا، والدین دو ماہ سے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

23 سالہ جانا القوزی اور27 سالہ محمد سلیم نے ابھی اپنے نوزائیدہ بچے کو دنیا میں خوش آمدید کہا ہی تھا کہ ہسپتال کے عملے نے اسے اپنی والدہ کے ہاتھوں سے لے لیا اور پھر وہ بچہ لاپتہ ہوگیا۔

چار مہینے قبل دونوں میاں بیوی بہتر زندگی کی تلاش میں لبنان سے ترکی آئے تھے لیکن اب وہ اپنے لاپتہ بچے کو بے تابی سے ڈھونڈ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ انہیں ان کے بچے سے متعلق اطمینان بخش جواب دینے میں ناکام رہی ہے، جانا القوزی کی والدہ نادا القوزی، جو کہ امریکن یونیورسٹی آف بیروت میں کام کرتی ہیں کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی بہت برے اور ناقابل بیان حال میں ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جانا اپنے بچے کو بہتر زندگی کی طرف لے جانا چاہتی تھی، اسی وجہ سے اس لے لبنان چھوڑ دیا تھا جبکہ وہاں محمد کی ایک ہارڈوئیر کی دکان تھی اور جانا بیروت میں ایک نجی ہسپتال میں کام کرتی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ استنبول میں ان دونوں کو کام مل گیا تھا اور (جانا کا) حمل نارمل تھا تاہم اس کے حمل کے چھٹے مہینے میں ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ بچے کے دل کی دھڑکن کی رفتار کم ہے۔

ایک مہینے بعد جانا کو پیٹ میں درد ہوا اور اس کے ڈاکٹر نے اسے کہا کہ بچے کی فوری ڈیلیوری ضروری ہے، اس کے بعد جانا اور محمد کا سخت وقت شروع ہوا۔

جانا کا کہنا ہے کہ وہ یہ ڈراؤنا خواب نہیں بھول سکتی جس میں وہ جولائی سے رہ رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میرے آنسو خشک ہوگئے ہیں اور میں دوائیں لے رہی ہوں۔

ان دونوں کے ترکی میں رہنے کے اجازت نامے کی معیاد ختم ہوگئی ہے لیکن جانا استنبول کے اوکمیدانی ہسپتال میں پیدا ہونے والے اپنے بچے کے بارے میں معلوم کیے بغیر نہیں جانا چاہتیں۔

چونکہ جانا ترکی کی رہائشی نہیں ہیں، انہیں ہسپتال کو جولائی میں چار ہزار لیرا یا 528 ڈالر ادا کرنے پڑے تھے، ہسپتال میں جانا کو اکیلے ڈلیوری روم میں چھوڑ دیا گیا۔ ان کے شوہر کو بھی ان کے ساتھ رکنے کی اجازت نہیں نہیں دی گئی کیونکہ وہیں اور خواتین بھی اس عمل سے گزر رہی تھیں۔

جانا کی والدہ کا کہنا تھا کہ جب ان کی بیٹی کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو انہیں خیرت ہوئی کہ بچہ ‘اتنا چھوٹا اور نیلی سی رنگت’ کا تھا۔

جیسے ہی ڈاکٹر نے جانا کی چیخنے کی آواز سنی، ایک ڈاکٹر آیا اور وہ بچے کو وہاں سے لے گیا، جانا کو فون سے بچے کی تصویر لینے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

کچھ دیر بعد ہسپتال کے عملے نے انہیں بتایا کہ آپ کا بچہ مر چکا ہے، جانا نے باہر منتظر محمد کو اندر بلایا اور بتایا کہ انہوں نے بچے کے رونے کی آواز سنی تھی۔

تب سے ہم دونوں کی زندگی جہنم بن گئی ہے انہیں اب تک اپنے بچے کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ دوسرے کمرے میں بچے کو جنم دینے والی ایک خاتون نے جانا کو بتایا کہ ان کا بچہ زندہ تھا، جبکہ ہسپتال انتظامیہ کا کچھ اور کہنا تھا۔

جب جانا اور محمد نے بچے کی لاش مانگی تو انہیں مختلف جوابات سننے کو ملے، بچے کے کوئی نشانات ہسپتال کے ریکارڈ میں نہیں اور اس میں صرف جانا کا نام لکھا ہوا تھا۔

ایک ڈاکٹر نے طبی رپورٹ میں لکھا کہ بچہ زندہ پیدا ہوا تھا لیکن انتہائی نگہداشت میں رکھے جانے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔

ایک اور ڈاکٹر کا دعویٰ تھا کہ بچہ پیدائش کے وقت انتقال کر گیا اور ایک نرس نے اس کی لاش اٹھائی، بعد ازاں دونوں میاں بیوی نے ایک وکیل سے رجوع کیا اور جانا کی والدہ نے بیروت میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم سے تحقیقات اور ان کی بیٹی کے ذہنی علاج کے لیے رابطہ کیا۔

جوڑے کے وکیل کے مطابق ترکش حکام نے بھی تحقیقات کا آغاز کیا لیکن وہ بہت سست روی کا شکار ہے۔ وکیل نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ترکش میڈیا پر یہ بات اٹھائیں۔

جانا کی والدہ کا کہنا ہے کہ ترکی میں لبنان کے سفارت خانے نے جانا، محمد اور ترکی کے حکام سے رابطہ کیا، انہوں نے بتایا کہ تحقیقات میں تین نرسوں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا کہ ہسپتال کے سرد خانے کا مینیجر اپنا فون بند کرکے غائب ہے۔

اس واقعے کو دو مہینے ہو گئے اور مقامی حکام ان دونوں پر ترکی چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، تاہم جانا اور محمد کا کہنا تھا کہ غیر قانونی طور پر ہی سہی وہ ترکی میں رہیں گے جب تک انہیں سچ کا پتا چل نہیں جاتا۔

جانا کی والدہ کے مطابق محمد کی نوکری چلی گئی ہے جبکہ جانا بچوں کی دیکھ بھال کا کام کر رہی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ انہیں ترکی میں رہنے کا اجازت نامہ مل جائے گا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *