Categories
Breaking news

ترجمان پاک فوج نے ’را‘ کی دہشتگردی کی فنڈنگ کے شواہد پیش کر دیئے

Advertisement
ڈی جی ISPR نے ’را‘ کی دہشتگردی کی فنڈنگ کے شواہد پیش کر دیئے

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (انٹر سروسز پبلک ریلیشنز) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے پاکستان میں دہشت گردی کا بھارتی منصوبہ بے نقاب کرتے ہوئے بھارتی خفیہ تنظیم ’را‘ کی دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کے شواہد پیش کر دیئے۔

Advertisement

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل بابر افتخار نے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس بریفنگ میں انکشاف کیا ہےکہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی تمام کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے، بھارت دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے، ان کی تربیت اور انہیں اسلحہ فراہم کر رہا ہے، داعش کے 30 دہشت گرد بھارت سے پاکستان کے مختلف شہروں میں بھیجے گئے ہیں، بھارت نے کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ باغی گروپوں کو جمع کیا ہے، مصدقہ شواہد موجود ہیں کہ افغانستان میں بھارتی سفیر اور سفارت کار پاکستان میں دہشت گردی کے سہولت کار ہیں۔

Table of Contents

x
Advertisement

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود بھارتی کرنل راجیش دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے، بھارت نے پاکستان کے خلاف کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ باغی گروہوں کو جمع کیا ہے، بھارت کراچی، لاہور، پشاور میں نومبر اور دسمبر میں تخریب کاری کی سازش بنا رہا ہے، داعش کے 30 دہشت گرد بھارت سے پاکستان کے مختلف شہروں میں بھیجے گئے ہیں، یہ دہشت گرد کالعدم ٹی ٹی پی کے ایک جنگجو کے پاس بھیجے گئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مصدقہ شواہد ہیں کہ افغانستان میں بھارتی سفیر اور سفارت کار پاکستان میں دہشت گردی کے سہولت کار ہیں، بھارت کا ادارہ ’را‘ خیبر پختون خوا اور دیگر شہروں میں دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کر رہا ہے۔

ہمارے پاس بھارت کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد ہیں: شاہ محمود قریشی

وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بھارت کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں، بھارت کے خلاف شواہد بین الاقوامی برادری کے سامنے ڈوزیئر کی شکل میں پیش کر رہا ہوں۔

اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی خفیہ تنظیم ’را‘ کی دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کے شواہد میڈیا کے سامنے پیش کر دیئے۔

انہوں نے بتایا کہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھارت نے بلوچستان میں اپنے دہشت گردوں کو فنڈ بھیجے ہیں، ایم کیو ایم لندن کو بھی ’را‘ کی فنڈنگ کے شواہد ہیں، 50 لاکھ ڈالر بلوچستان اور 32 لاکھ ڈالر ایم کیو ایم لندن کے طارق میر اور سرفراز مرچنٹ کو بھیجے ہیں، بھارت دہشت گردی کے لیے دہشت گرد تنظیموں کا کنسورشیم بنا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اپنے سہولت کاروں کے ذریعے پاکستان میں داعش کے قیام کی سازش کر رہا ہے، بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کو بارود اور اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے، بھارت نے وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں اسلحہ اور گولہ بارود بھیجا ہے، ایم کیو ایم لندن کے دہشت گردوں کو بھی بھارت نے اسلحہ اور بارود فراہم کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کے 66 دہشت گرد کیمپ افغانستان اور باقی بھارتی شہروں میں ہیں، بھارت نے قندھار میں دہشت گرد کیمپ قائم کرنے کے لیے 3 کروڑ ڈالر ادا کیئے ہیں، اجمل پہاڑی نے چیف جسٹس پاکستان کے سامنے اعتراف کیا کہ الطاف حسین گروپ کے لیے بھارت نے 4 کیمپ قائم کیئے۔

یہ بھی پڑھیے

پریس کانفرنس میں ڈاکٹر اللّٰہ نذر اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے حکام کے درمیان ہونے والی گفت گو کی آڈیوچلائی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی اپنے فرنٹ مین کو دیگر ممالک میں فنڈنگ کر رہا ہے، ڈاکٹر اللّٰہ نذر کے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ساتھ روابط مصدقہ ہیں، ڈاکٹر اللّٰہ نذر نے جعلی افغان پاسپورٹ پر بھارت کا سفر کیا، پشاور ایگریکلچر یونیورسٹی اور اے پی ایس حملے میں ’را‘ ملوث تھی، ان حملوں کی ویڈیوز افغانستان سے اپ لوڈ کی گئیں، بھارت آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت نے پاکستان میں اہم شخصیات کو قتل کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے سازش میں ملوث ہیں، الطاف حسین گروپ کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے 2 کمپنیوں کے ذریعے فنڈنگ کی، بھارت مختلف ذرائع سے دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کر رہا ہے، بلوچستان میں سی پیک کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارت نے خصوصی ملیشیا بنائی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا ہے کہ ملک فریدون کے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے روابط تھے، آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد ملک فریدون جشن منانے کے لیے افغانستان میں بھارت قونصلیٹ گیا، پی سی گوادر حملے کا ماسٹر مائنڈ ’را‘ کا افسر انوراگ سنگھ تھا۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *