Categories
Breaking news

تارکین وطن کے حراستی مراکز میں ملاقات پر پابندی ، فرانکا زونا سائٹ میں کتنے افراد نظر بند ہیں؟ جانئے تفصیلات

بارسلونا (محمد نبی) مائگرا استودئم گروپ (Migra Studium group) جو اسپین کی غیر سرکاری تنظیم Jesuit Migrant Service کا ایک حصہ ہے، نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارسلونا میں تارکین وطن کے حراستی مراکز CIE واحد ایسے مراکز ہیں جہاں وبا سے لے کر اب تک کسی کے آنے جانے پر پر پابندی عائد ہے۔ یہ گروپ ان چند غیر سرکاری گروہوں میں سے ایک ہے جو ان مقامات پر جا سکتا ہے اور صورت حال کی اطلاعات دیتا آیا ہے۔ مائگرا گروپ نے 2019 میں بھی ایسی ہی اطلاعات دی تھیں۔ انہوں نے کم سن بچوں کی موجودگی ، ترجمانوں کی کمی اور طبی امداد کی ناکافی صورت حال پر رپورٹ پیش کی تھی۔

قانون دان جوس جیویر ایردویز (José Javier Ordoñez) نے کہا ہے کہ ملاقات پر پابندی اس امر کی عکاس ہے کہ دوسری آنکھے نہ دیکھے اور دوسرے کان نہ سنیں کہ مرکز میں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ وبا ایک بہانہ ہے جس کا فائدہ اٹھا جا رہا ہے۔ اپنی حالیہ رپورٹ میں مائگرا استودئم نے اطلاع دی ہے کہ زونا فرانکا (Zona Franca) کے مرکز میں 445 افراد کو 2020 میں نظر بند کیا تھا جو اسپین بھر میں مجموعی تعداد کا 20.01 فیصد بنتے ہیں۔

پورے اسپین میں 84 افراد کو حفاظتی کمروں میں علیحدہ کیا گیا تھا، ان میں سے 72 کا تعلق اسی سی آئی ای سے بتایا گیا ہے۔ علیحدہ رکھنے کی وجہ صحت بتائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپین میں 2,224 افراد حراستی مراکز میں ہیں۔ بارسلونا کے بعد دوسرے نمبر پر میڈرڈ ہے جہاں 465 افراد زیر حراست ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *