Categories
Breaking news

بے گناہ وکلاء کو ہراساں کرنیوالوں کیخلاف کارروائی چاہیے، جسٹس اطہر من اللہ

Advertisement
بے گناہ وکلاء کو ہراساں کرنیوالوں کیخلاف کارروائی چاہیے، جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف جسٹس بلاک پر حملے کے بعد بے قصور وکلاء کے گھروں پر پولیس چھاپوں کا سلسلہ شروع ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی اسلام آباد سے کل تک جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔

Advertisement

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سینئر وکیل نذیر جواد کی درخواست پر سماعت کی تو درخواست گزار وکیل نے بتایا کہ وہ احتجاج یا حملے میں شامل نہیں تھے، اس کے باوجودپولیس نے گزشتہ رات ان کے آفس پر چھاپہ مارا ہے۔

Table of Contents

x
Advertisement

انہوں نے کہا کہ میں نے تو اس کنڈکٹ کی مذمت کی اور عدالتوں میں بھی پیش ہو رہا ہوں۔

سماعت کے دوران دو گھنٹے کے عدالتی نوٹس پر ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات اور ایس ایس پی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایس ایس پی سے استفسار کیا کہ کون پروفیشنل اور بے گناہ وکلاء کو ہراساں کررہا ہے؟ مجھے ان کے خلاف کارروائی چاہیے، پتہ کریں کون گیم کھیل رہا ہے، یہ عدالت کسی کو کوئی گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کیا اس معاملے پر کوئی گیم کھیل رہا ہے؟ اصل مجرمان کے بجائے آپ بے گناہوں کو ہراساں کررہے ہیں، جو حملے میں ملوث ہیں ان کو آپ پکڑ نہیں سکتے، بے گناہ وکلاء کو کسی صورت ہراساں نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اس معاملے پر انکوائری بٹھائیں اور پتہ کریں کہ کس نے ایسا کیا اور کیوں کیا؟ اس ملک میں رول آف لاء نہیں ہوگا تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔

انہوں نے حکم دیا کہ کون پروفیشنل اور بے گناہ وکلاء کو ہراساں کررہے ہیں، مجھے ان کے خلاف کارروائی چاہیے، کل تک انکوائری کرکے عدالت کو رپورٹ کریں، 5 فیصد لوگ اس واقعے میں ملوث تھے جو سب کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو بھی اصل ملزمان کو بچانا چاہتے ہیں آپ اس عدالت کو بتائیں گے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *