Categories
Breaking news

بیوروکریسی کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ نیب ہے: سلیم مانڈوی والا

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اس وقت بیوروکریسی کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک نیب اپنا طریقہ کار بہتر نہیں کرے گا، پریشان کرنا بند نہیں کرے گا اس وقت تک بیوروکریسی اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کرسکے گی۔

سکھر ایئرپورٹ پر گڑھی خدا بخش روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جسے پارلیمنٹ بلائے اور وہ نہ آئے۔

سلیم مانڈوی والا نے امید ظاہر کی کہ اس لیے مجھے کوئی شبہ نہیں ہے کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) یا ان کے افسران پارلیمنٹ یا اس کی کمیٹی میں پیش نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پارلیمینٹیرین الیکشن کمیشن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) میں جوابدہ ہیں اور اپنے اثاثے ان کے سامنے ڈکلیئر کرتے ہیں تو اگر نیب میں کام کرنے والوں کے اثاثے، ڈگریاں اور ڈومیساٗیل چیک کیے جا رہے ہیں تو اس میں کیا قباحت ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اداروں کی نگرانی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے اور اگر وہ اس وقت نیب کی نگرانی کررہی ہے تو یہ بات لوگوں کو انہونی کیوں لگ رہی ہے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا میرا کیس کورٹ میں ہے اور میں وہاں پر اپنا جواب جمع کرؤں گا اور مجھے امید کورٹ ہی بہتر فیصلہ کرے گی, سینٹ کے انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے، اس سے پہلے انتخابات نہیں ہوسکتے۔

واضح رہے کہ نیب نے یب نے 24 نومبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایک رپورٹ جمع کروائی جس میں کہا گیا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمپنیر آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ مختلف کمپنیوں کے 31 لاکھ حصص منجمد کر دیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سلیم مانڈوی والا نے مبینہ طور پر طارق محمد کے نام پر بے نامی حصص خریدے اور وہ جعلی اکاؤئنٹس کیسز میں ملزم ہیں۔

اس سے اگلے ہی روز سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو پارلیمنٹ میں طلب کرنے کے لیے تحریک استحقاق جمع کروا دی تھی۔

نیب کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے کاروباری حصص منجمند کرنے کے معاملے پر نیب پر جانب داری الزام عائد کرتے ہوئے سلیم مانڈوی والا نے کہا تھا کہ چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور متعلقہ تحقیقاتی افسر کو پارلیمنٹ میں طلب کیا جائے۔

سلیم مانڈوی والا نے مؤقف اپنایا تھا کہ نیب قانون کے مطابق تحقیقات کرنے کے لیے آزاد ہے لیکن مجھے بدنام کرنے اور ملزم لکھنے کا کوئی لائسنس نہیں ہے۔

تحریک استحقاق میں انہوں نے کہا تھا کہ نیب ریاستی اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے اداروں کی ساکھ تباہ کر رہا ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے مطالبہ کیا تھا کہ سینیٹ، نیب سے اس کیس سے متعلق ثبوت طلب کرے اور میرے خلاف نیب کے اقدام کا معاملہ سینیٹ کی استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *