Categories
Breaking news

بھارت میں اقلیتیں بی جے پی کی سرپرستی میں کام کرنے والے انتہا پسند گروپوں کے نشانے پر ہیں: وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خانوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی حکومت خطے کے ’امن کے لیے ایک حقیقی اور موجودہ خطرہ‘ ہے جبکہ بھارت میں تمام اقلیتیں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سرپرستی میں کام کرنے والے انتہا پسند گروپوں کے نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے پیچھے…

دی کوئنٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوتوا کے رہنما یاتی نرسنگھانند نے 17 سے 19 دسمبر تک اتراکھنڈ کے یاتری شہر ہریدوار میں نفرت انگیز تقاریر سے بھرپور اجتماع کا اہتمام کیا تھا، جہاں اقلیتوں کا قتل کرنے اور ان کے مذہبی مقامات پر حملہ کرنے کی جانب اکسایا گیا تھا۔

وزیر اعظم عمران نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں مودی کو ان کی ’مسلسل خاموشی‘ اور انتہا پسند ہندوتوا گروپوں کے خلاف بے عملی پر تنقید کا نشانہ بنایا جو ملک میں اقلیتوں کی نسل کشی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Under the extremist ideology of the BJP Modi govt, all religious minorities in India have been targeted with impunity by Hindutva groups. The extremist agenda of the Modi govt is a real and present threat to peace in our region.

— Imran Khan (@ImranKhanPTI) January 10, 2022

انہوں نے کہا کہ بھارت کی اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے پیچھے حکمران بی جے پی حکومت کا ’انتہا پسند نظریہ‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار کے شدت پسندانہ نظریے کے سائے میں ہندوتوا جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے بھارت میں تمام مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں‘۔

وزیر اعظم نے مودی حکومت کی مسلسل خاموشی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت اقلیتوں کے خلاف انتہا پسندوں کی ترغیب کی حامی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف انتہاپسندوں کی ان اپیلوں کا نوٹس لے اور اس کے خلاف کارروائی کرے۔

اکتوبر میں دی پرنٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، ہندو رہنما نرسنگھ نند پر کئی مواقع پر مسلم کمیونٹی کے خلاف فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندو رکشا سینا کے صدر سوامی پربودھانند گیری نے کہا کہ ’میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاست دان، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانا ہوں گے اور صفائی ابھیان (نسل کشی ) کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔‘

سیاسی جماعت ہندو مہاسبھا کی جنرل سکریٹری سادھوی اناپورنا نے بھی ہتھیاروں اور نسل کشی پر اکسانے کی ترغیب دی تھی۔

دی وائر نے ان کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہتھیاروں کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں، اگر تم ان کی آبادی کو ختم کرنا چاہتے ہو تو انہیں مار دو، مارنے کے لیے تیار ہو جاؤ اور جیل جانے کے لیے تیار رہو، یہاں تک کہ اگر ہم میں سے 100 لوگ بھی ان میں سے 20 لاکھ (مسلمانوں) کو مارنے کے لیے تیار ہو جائیں، تب بھی ہم جیت جائیں گے اور جیل جائیں گے۔‘

رپورٹ کے مطابق مذہبی رہنما سوامی آنندسوروپ نے ایک مثال دی کہ سڑک پر مسلمان دکانداروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں جس گلی میں رہتا ہوں وہاں ہر صبح مجھے ایک ملا نظر آتا تھا جس کی داڑھی ہے اور آج کل وہ زعفرانی داڑھی رکھتا ہے۔ یہ ہریدوار ہے مہاراج، یہاں کوئی مسلمان خریدار نہیں ہے، اس لیے اس شخص کو اٹھا کر باہر پھینک دو۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *