Categories
Breaking news

بوڑھی والدہ کو مردہ قرار دیکر بچوں نے کروڑوں روپے بٹور لیے

بوڑھی والدہ کو مردہ قرار دیکر بچوں نے کروڑوں روپے بٹور لیے

بوڑھی والدہ کو مردہ قرار دیکر بچوں نے امریکی انشورنس کمپنی سے 25 کروڑ کی رقم بٹورلی۔کراچی میں بچوں کی جانب سے بوڑھی والدہ کو مردہ قراردے کر امریکا کی انشورنس کمپنی سے 25 کروڑ روپے بٹورنے کا کیس سامنے آیا ہے جس پر ایف آئی اے ہیومن ٹریفکنگ سیل نے بوڑھی والدہ کو مردہ قراردے کر رقم بٹورنے والی…

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے ہیومن ٹریفکنگ سیل کی جانب سے اپنی نوعیت کی منفرد چالبازی کا مقدمہ یکم دسمبر کو درج کیا گیا، ایف آئی آر کے مطابق فہد سلیم اور فاریہ سلیم نے اپنی بوڑھی والدہ سیما سلیم کھربے کو مردہ قرار دے کر امریکا سے 25 کروڑ روپے کی خطیر رقم وصول کی، سیما سلیم کھربے نے امریکا کی ایک انشورنس کمپنی سے 2009 میں 2 پالیسیاں لی تھیں، 8 جون 2011 کو سیما سلیم کی فوتگی کا سرٹیفکیٹ بیمے کی رقم وصول کرنے کے لیے جمع کروایا گیا تاہم خاتون کے زندہ ہونے کا راز اس وقت کھلا جب وہ مردہ ظاہر ہونے کے باوجود 2013 میں پاسپورٹ اپلائی کرنے امریکن قونصل خانے گئیں۔
ذرائع کے مطابق امریکن قونصل خانے کے اسسٹنٹ ریجنل سیکیورٹی اسکاٹ جے جیس کی جانب سے ایف آئی اے کو تحریری درخواست موصول ہوئی، سیما سلیم کھربے نے انتقال کے بعد بھی بیٹے کے ہمراہ پاکستانی پاسپورٹ پر10سے زائد ملکوں کے فضائی سفرکیے، انشورنس کی رقم کے حصول کے لیے بنوائے گئے، بوگس ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں سیکریٹری یونین کونسل 6 شاہ بیگ لین لیاری ممتاز علی عباسی نے ان کی معاونت کی جب کہ سندھ گورنمنٹ لیاری جنرل اسپتال کے سینئیر میڈیکل آفیسر ڈاکٹرحسین اختر نے انھیں ڈیتھ سرٹیفکیٹ فراہم کیا۔

ذرائع کے مطابق ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں خاتون سیما سلیم کاربے کی موت کو حرکت قلب بند ہونا قراردیا گیا، خاتون کومردہ قراردینے کےلیے فشرمین مورنا قبرستان کی رسید مہیا کی گئی، امریکن انشورنس کمپنی سے رقم ملنے کے بعد فہد سلیم نے پاکستان کا دورہ بھی کیا، امریکا سے انشورنس کی رقم پاکستان منتقلی کے لیے فہد سلیم نے کراچی میں 2 اکاؤنٹ کھلوائے جس میں سے ایک دھوراجی اور دوسرا جھیل پارک میں کھلوایا گیا۔

کیس کے تفتیشی آفیسر انسپکٹراسٹیفن نے ایف آئی آر عدالت میں جمع کروادی ہے جب کہ عبوری چالان 14روز بعد جمع کروایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *