Categories
Breaking news

بلاول، مریم اختلافات پر میڈیا کے سوالات

بلاول، مریم اختلافات پر میڈیا کے سوالات

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت میں ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران بلاول اور مریم کے اختلافات سے متعلق صحافیوں نے دونوں جماعتوں کی قیادت پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔

مریم اور بلاول اختلافات کے سوال پر جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ٹوٹے ہوئے دل جڑ جاتے ہیں، میں بیچ میں کھڑا ہوں دل جُڑ گئے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ عدم اعتماد ہمارے پاس آپشن ہے، اس پر تفصیل سے بات ہوئی ہے، ہم نے تمام آئینی، سیاسی اور قانونی آپشز پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

عدم اعتماد ہمارے پاس آپشن ہے، اس پر تفصیل سے بات ہوئی، شہباز شریف

شہباز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے لچک دکھائی، ہم تجاویز اپنی پارٹی اور پی ڈی ایم میں لے کر جائیں گے۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ دونوں لانگ مارچ میں کس طرح ہم آہنگی ہوسکتی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ آپس کے اختلافات بھلا کر عوام کی بہتری کے لیے آگے بڑھیں گے، سلیکٹڈ اب گھر جائے گا، عوام کے لیے ایک ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کو ہٹانے کے لیے تمام اختلافات بھلانے کو تیار ہیں۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی

پیپلز پارٹی نے تجویز دی کہ عدم اعتماد کی صورت میں دونوں پارٹیوں کو متفقہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے۔

واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلم لیگ (ن) کے صدر، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف سے ملنے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچے۔

شہباز شریف نے اپنے صاحبزادے حمزہ شہباز، بھتیجی مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ رہائش گاہ پر آصف زرداری اور بلاول بھٹو کا خیر مقدم کیا۔

استقبال کے وقت سب نے کورونا ایس او پیز کا مکمل خیال رکھا، آصف زرداری اور شہباز شریف نے کہنی کے ساتھ کہنی ملائی جبکہ بلاول بھٹو اور حمزہ شہباز نے ایک دوسرے کے ساتھ مکے ملائے۔

آصف زرداری نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو جھک کر سلام کیا، ملاقات کے دوران مریم نواز کے سوا سب نے ماسک پہنا ہوا تھا۔

بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کی (ن) لیگ کی قیادت سے ملاقات کے دوران خواجہ سعد رفیق کے ساتھ ساتھ مریم اورنگ زیب بھی موجود تھیں۔

ملاقات کے دوران دونوں جماعتوں کی قیادت نے ملکی سیاسی صورتِ حال، حکومت مخالف مارچ اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.