Categories
Breaking news

برطانیہ میں غیرقانونی داخلہ روکنے کیلئے قانون میں اہم ترامیم کا اعلان

Advertisement
Advertisement

راچڈیل (نمائندہ دوست)غیر قانونی طریقہ سے سرحد عبور کر کے برطانیہ داخل ہونیوالوں کا راستہ روکنے کے لیے قانون میں اہم ترمیم کا اعلان کر دیا گیا، سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے کہ برطانیہ میں غیر قانونی مہاجرین کا داخلہ روکنے کیلئے بارڈر سیکورٹی فورسز کو غیر قانونی طور پر داخل ہونیوالے افراد کے فنگر پرنٹس لینے کے اختیارات ہیں مگر لیکن کلیس اور ڈنکرک میں کام کرنے والے ایسا نہیں کرتے ہیں، بارڈر فورس کو مزید اختیارات تفویض کیے جائینگے، موسم بہار میں نافذ ہونے والے قانون کی بدولت سرحدی عہدیداروں کو مہاجرین کا فنگر پرنٹس حاصل کرنیکی مکمل اجازت ہوگی، بالخصوص جہاں فرانسیسی بندرگاہوں پر لاریوں اور دیگر گاڑیوں کی تلاشی لی جاتی ہے وہاں نظام کو مزید موثر بنایا جائیگا۔ہوم آفس کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر ہمارے پاس فنگر پرنٹس موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرانس میں کوئی ایسا شخص تھا جس کا بعد میں برطانیہ میں سامنا کرنا پڑا تو وہ ان کے معاملات کو ناقابل تسخیر قرار دینے میں کلیدی ثابت ہوسکتے ہیں، امیگریشن کے وزیر کرس فلپ نے کہاآج کا اقدام ان پناہ گزین نظام کی اصلاح ، سرحدی کنٹرول کو مستحکم کرنے اور غیر قانونی نقل مکانی کو کم کرنے کے لئے پہلے ہی اٹھائے گئے اقدامات پر استوار ہے، یہ گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھے جانے والے ناقابل تسخیر قواعد پر قائم ہے توقع کی جا رہی ہے کہ ناقابل سماعت مقدمات کا تعین کرنے میں شواہد کی بنیاد کا ایک اہم حصہ تشکیل پاسکے گاان اقدامات سے سیاسی پناہ کے عملے پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی اور وہ حقیقی مستحق افراد کے سیاسی پناہ کے حقیقی معاملات پر کاروائی کیلئے توجہ مرکوز کر پائینگے حکومت مضبوط اور بہتر نظام کی فراہمی کے لئے ہمارے ٹوٹے ہوئے سیاسی پناہ کے نظام کو ٹھیک کررہی ہے تاہم بریگزٹ منتقلی کی مدت کے اختتام کے بعد فرانس اور یورپی یونین کے دیگر ممالک کے ساتھ تارکین وطن کی واپسی کے معاہدوں پر ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہوسکا،یہ امر قابل ذکر ہے کہ کورونا بحران کے دوران گزشتہ برس شمالی فرانس سے چھوٹی کشتیوں میں 8ہزار5سو غیر قانونی مہاجرین سمندری راستے سے برطانیہ پہنچے اسکے مقابلے میں 2019میں یہ تعداد صرف 1850تھی، ثانوی قانون سازی کے تحت لائے جانے والے نئے اختیارات موسم بہار میں نافذ کیے جانیکی توقع ہے ‘ سیکرٹری داخلہ غیر قانونی مہاجرین کا راستہ روکنے کیلئے طویل عرصہ سے جدوجہد کر رہی ہیں مگر انکی جدوجہد کا غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے پر کوئی اثر نہیں ہوا 2019کی نسبت 2020میں غیر قانونی مہاجرین کے داخلے میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *